The news is by your side.

Advertisement

احتساب عدالت میں اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس کی سماعت

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران ملزم سعید احمد کے وکیل نے عمرے پر جانے سے متعلق بتایا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سب تاخیری حربے ہیں، کیس چلنے نہیں دیا جا رہا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

وکیل صفائی قاضی مصباح نے بینک الفلاح کے گواہ مسعود الغنی پر جرح کی جبکہ ریفرنس میں نامزد تینوں شریک ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔

ملزمان کے وکلا کی جانب سے تاخیری حربے بھی جاری ہیں۔ سعید احمد کے وکیل نے کہا کہ میں عمرے پر جانا چاہتا ہوں جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ اس مرحلے پر کیسے جا سکتے ہیں، ٹرائل جاری ہے۔ پہلے ہی سعید احمد کے سینئر وکیل حشمت حبیب نہیں آ رہے۔

معاون وکیل نے بتایا کہ حشمت حبیب بیمار ہیں، گزشتہ سماعت پر وہیل چیئر پر آئے تھے۔ جج نے کہا کہ ایک وکیل بیمار ہے، دوسرا عمرے پر جا رہا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ یہ سب تاخیری حربے ہیں، کیس کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سماعتوں پر صرف گواہ محمد عظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔ جج نے دریافت کیا کہ حشمت حبیب کب تک آئیں گے اور کب جرح کریں گے۔

معاون وکیل نے کہا کہ حشمت حبیب جیسے ہی بہتر ہوں گے آجائیں گے۔

دوسری جانب صدر نیشنل بینک سعید احمد کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔ نہ کوئی بینک اکاؤنٹ کھلوائے نہ ہی کسی کو فائدہ پہنچایا۔

درخواست میں کہا گیا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق دستخط سعید احمد کے دستخط سے میچ نہیں کرتے۔ اب تک 4 گواہوں میں سے کسی نے سعید احمد کے خلاف کچھ نہیں کہا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت اسحٰق ڈار ضمنی ریفرنس سے سعید احمد کو بری کرنے کا حکم جاری کرے۔

احتساب عدالت میں کیس کی سماعت جاری ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں