The news is by your side.

Advertisement

اسحاق ڈارکے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی

اسلام آباد: سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ضمنی ریفرنس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ضمنی ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔

ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزمان میں سے سعید احمد عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ دیگردو ملزمان نعیم محمود اور منصوررضا عدالت میں موجود تھے۔

احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پر معزز جج نے استفسار کیا کہ سعید احمد کہاں ہیں؟ جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ سعیداحمد ایگزیکٹوبورڈ کی میٹنگ میں ہیں استثنیٰ دیا جائے۔

عدالت نے سعیداحمد کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی، ملزم سعید احمد کی جگہ ان کے نمائندے ذوالفقارعدالت میں موجود ہیں۔


گواہ عبدالرحمان گوندل کا بیان قلمبند

استغاثہ کے گواہ عبدالرحمان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت نجی بینک چاندنی چوک راولپنڈی برانچ میں تعینات ہوں، اسحاق ڈار کیس میں نیب کے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہو۔

سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے اکاؤنٹ، کورنگ لیٹر اوراکاؤنٹ اوپننگ فارم عدالت میں پیش کیا گیا جس پروکیل صفائی نے سوال کیا کہ یہ تمام دستاویزات اوریجنل ہیں؟ جس پر گواہ نے جواب دیا جی ہاں دستاویزات اوریجنل ہیں۔

گواہ عبدالرحمان نے بتایا کہ 18جنوری 2018 کو نیب تفتیشی افسر کو2 چیک فراہم کیے جبکہ 27 جنوری 2014 کا چیک 5 لاکھ کی مالیت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیک نیشنل اسمبلی ایمپلائزویلفیئر فنڈ میں جمع کرایا گیا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ جوچیک پیش کیے وہ اسحاق ڈارکے ذاتی اکاؤنٹس کے ہیں، تنخواہ کےعلاوہ دیگررقوم بھی اس اکاؤنٹ میں ڈالی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ 25 مارچ 2005 کو1757846 روپے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے، 21 جنوری2014 کو9 لاکھ اسحاق ڈار کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے، 20ستمبر2005 کو42لاکھ اسحاق ڈارکے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔

گواہ عبدالرحمان نے بتایا کہ 25مارچ2011 پانچ لاکھ 50 ہزاراکاؤنٹ میں منتقل ہوئے، 20جون2011 کو8 لاکھ 50ہزاراسحاق ڈارکے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جبکہ 27 دسمبر2005 کو5لاکھ 50ہزارکیش رقم جمع کرائی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ ساڑھے17لاکھ کی پہلی رقم چوہدری نثارکے چیک سے منتقل کی گئی، 9 لاکھ والی رقم سینیٹ سیکرٹریٹ ملازمین کے اکاؤنٹس سے منتقل کی گئی،12لاکھ کی رقم نجی بینک کی راولپنڈی برانچ سے منتقل کی گئی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ آن لائن رقم منتقلی تھی معلوم نہیں کس کے اکاؤنٹ سے منتقل ہوئی، وکیل صفائی نے سوال کیا کہ آپ نے معلوم کرنے کی کوشش کی کس کا اکاؤنٹ ہے؟ ۔

گواہ عبدالرحمان گوندل نے جواب دیا کہ نہیں یہ جاننے کی کوشش نہیں کی تفتیشی کوآگاہ کردیا تھا، 23لاکھ کی رقم بھی نہیں معلوم کس اکاؤنٹ سے منتقل ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ 42 لاکھ کی رقم نجی بینک کی لاہوربرانچ سے منتقل ہوئی، وکیل صفائی نے سوال کیا کہ کہاں سے معلوم ہوسکتا ہے رقوم کون سے اکاؤنٹ سے آئی؟ گواہ نے جواب دیا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فنانشل ٹرانزیکشن سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

استغاثہ کے گواہ محمدعظیم کے بیان کو ضمنی ریفرنس کا حصہ بنا دیا گیا، آئندہ سماعت پروکیل صفائی گواہ محمدعظیم پرجرح کریں گے۔

احتساب عدالت نے استغاثہ کے گواہ شیردل خان کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 5 اپریل کو سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات سے متعلق ضمنی ریفرنس میں نامزد شریک ملزمان سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا پرفرد جرم عائد کی تھی۔

یاد رہے کہ نیب کی جانب سے رواں سال 26 فروری 2018 کو دائر کیے گئے اثاثہ جات ریفرنس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضا کو بطور شریک ملزمان نامزد کیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں