The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس کا فیصلہ،اسحاق ڈار نے نظر ثانی درخواست دائر کردی

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف کے بعد وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے پاناماکیس کے فیصلہ کیخلاف سابق وزیراعظم نوازشریف کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نظر ثانی درخواست دائرکردی، نظر ثانی درخواست وکیل طارق حسن نے سپریم کورٹ میں دائرکی، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے میں خامیاں ہیں، کمزور ہے، مکمل ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلہ سنایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف نام نہاد اعترافی بیان کا الزام لگایا گیا، درخواست میں آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام نہ تھا، تحقیقاتی ٹیم کو اثاثوں کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مینڈیٹ سے تجاویز کیا اور عدالت نے مینڈیٹ سے تجاویزرپورٹ پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔

دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 20 اپریل کے فیصلے میں اسحاق ڈار کیخلاف تحقیقات کا حکم نہ تھا، کیا16سال میں اثاثوں میں اضافہ مختصر مدت ہے، بطور وزیر خزانہ اثاثوں میں544 ملین کی کمی ہوئی، اسحاق ڈار کے اثاثوں میں اضافہ09-2008میں ہوا، اثاثوں میں اضافہ کی وجہ6سال کی غیر ملکی آمدنتھی، غیر ملکی آمدن کا ریکارڈ جے آئی ٹی اور عدالت کو فراہم کیا۔


مزید پڑھیں : نوازشریف نے نااہلی کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں دائر کردیں


درخواست میں مزید کہا گیا کہ رپورٹ کے خلاف اسحاق ڈار کے اعتراضات کو زیر غور نہیں لایا گیا، 1983 سے 2016تک کا انکم اور ویلتھ ٹیکس ریکارڈ دیا گیا، ٹیکس حکام نے اسحاق ڈار کے ریٹرن کو قبول کیا، مشکوک تحقیقاتی رپورٹ پر ریفرنس دائر کیسے ہوسکتا ہے، نیب قانون کے مطابق ریفرنس سے پہلے کے متعدد مراحل ہیں، عدالتی حکم سے انکوائری اورتحقیقات کے مراحل کےحق متاثر ہوئے۔

نظر ثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل184تین بنیادی حقوق سلب کرنے کیلئےاستعمال نہیں ہوسکتا، رپورٹ کے بعد سماعت 3ججز نے کی، فیصلہ 5ججز نے سنایا۔

درخواست میں سوال کیا ہے کہ جن 2ججز نے سنا نہیں وہ فیصلے میں کیسے شامل ہوگئے؟ نگران جج کے تقرر سے عدالت بظاہرشکایت کنندہ بن گئی، نگران جج کی تعیناتی اور 28جولائی کا حکم آرٹیکل 175، 203کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما فیصلے میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنسز کا حکم دیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں