نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ حماس فلسطین امن معاہدے کو مسترد نہیں کرے گا۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ حماس سے مذاکرات چل رہے تھے، میں نہیں سمجھتا کہ حماس کی طرف سے معاہدے کی مخالفت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین نے 21 نکاتی پلان کا خیرمقدم کیا ہے، پلان کا مقصد امن، سیکیورٹی اور استحکام ہے، پلان کا مقصد امن، سیکیورٹی اور استحکام ہے۔
یہ پڑھیں: غزہ امن منصوبے کے اہم نکات
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا دو ریاستی حل کا دیرینہ موقف ہے، 21 نکاتی پلان پر 8 ممالک کی کمٹمنٹ ہے، سربراہان نے دل کے ساتھ پلان کو کامیاب بنایا، کچھ لوگ سیاست کے لیے 21 نکاتی پلان کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ فلسطین کے لوگ اسے قبول کررہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس معاہدے کے پیچھے بہت کام ہوا ہے، پلان پر پہنچنے کے لیے کئی مشاورتی ادوار ہوئے ہیں جس کے تحت فلسطین کی ٹیکنوکریٹ حکومت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ پیس کیپنگ فورس کے لیے انڈونیشیا نے 20 ہزار اہلکار دینے کا کہا ہے، پیس کیپنگ مقصد کے لیے پاکستان بھی اپنا فیصلہ کرے گا، پاکستان کی پالیسی فلسطین پر بالکل واضح ہے، امن معاہدے کے تحت مغربی کنارے کا علاقہ اسرائیل میں شامل نہیں ہوگا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا کو معاہدے میں شامل کیا تاکہ امن معاہدے پر عمل کرواسکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


