The news is by your side.

Advertisement

اسحٰق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی جس میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے گئے۔ سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی احتساب عدالت اسلام آباد میں سماعت ہوئی۔

آج کی سماعت میں گواہ علی اکبر نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ علی اکبر نے اپنے بیان میں کہا کہ نیب لاہور نے 17 اگست 2017 کو نوٹس دیا جس میں اسحٰق ڈار اور خاندان کی جائیداد کی تفصیلات مانگی گئی۔

ان کے مطابق اسٹنٹ کمشنر رائے ونڈ کی حیثیت سے اگست 2017 میں ریکارڈ لے کر ریکارڈ تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا۔

گواہ نےاسحٰق ڈار کی اہلیہ کی اراضی کی تفصیلات عدالت میں پیش کی۔ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم کےنام 2 کنال 19 مرلے کا پلاٹ ہے۔

گواہ علی اکبر نے 1984 سے 1988 تک کی اراضی کی تفصیلات بھی پیش کی جبکہ جمع بندی اور انتقال کی اصل دستاویزات کے ساتھ مصدقہ نقول بھی پیش کی گئیں۔

احتساب عدالت میں دوسرے گواہ نیاز صبہانی اور تیسرے گواہ عبید کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا۔ چوتھے گواہ قابوس عزیز کا بیان قلمبند نہ ہوسکا۔

قابوس عزیز کو جس دن ریکارڈ ترتیب دیا گیا، اس سے اگلے دن ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں