اسلام آباد(3 اکتوبر 2025): وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جن 20 نکات کا اعلان کیا ہے وہ ہمارے نہیں ہیں اس ڈرافٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنی تجاویز تیار کر کے دیں، 20 نکات پر 8 ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا، ہمارے اکثر نکات مان لیے گئے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 8 ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کی اہم میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں غزہ کے سوا کوئی اور ایجنڈا نہیں تھا، غزہ میں جنگ بندی نہ کراسکے تو یواین اور یورپی یونین کا کیا فائدہ۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نےغزہ کے حوالے سے کئی میٹنگز کیں، جمعہ کی رات جب نکل رہا تھا تو 8 ممالک کی طرف سے فائنل ڈرافٹ بنا، 8 ممالک کی جانب سے فیصلہ ہوا کہ ہم اس ڈرافٹ کو امریکا بھیج دیں گے، ہفتے کے روز مجھے کنفرم کردیا گیا کہ امریکا کو یہ ڈرافٹ موصول ہوچکا ہے، موجودہ صورتحال میں یہ معاہدہ قابل عمل حل ہے، غزہ میں جنگ بندی کے لئے ہمیں ہر قربانی دینی چاہئے، جہاں یو این، یورپی یونین، اوآئی سی، عرب ممالک فیل ہوگئے تو پھر اور کیا ہی راستہ بچتا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جو ٹوئٹ کی اس کے جواب میں ٹوئٹ کیا گیا، کسی کو الہام تو نہیں تھا وہ 20 پوائنٹ وہ نہیں جو 8 ممالک نے بھیجے تھے، ہماری یہ کوششیں کسی شیڈول میں نہیں تھی ہم نے غزہ کے لئے قدم اٹھایا ہے، فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل پاکستان کی پالیسی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی ضروری ہے اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے ، یہ ہمارا ذاتی مسئلہ نہیں ہے یہ اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے، مسئلہ فلسطین پر سیاست کی گنجائش نہیں، فلسطین سے متعلق ہماری وہی پالیسی ہے جو قائد اعظم کی تھی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں، یو این جنرل اسمبلی اجلاس میں اسرائیل کا نام لیکر تنقید کی گئی اس اجلاس میں اسرائیل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، غزہ میں امن قائم کرنے میں اقوام متحدہ ناکام ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین، عرب ممالک بھی غزہ میں خون بندی نہیں کراسکے ہیں، غزہ میں 64 ہزار لوگ شہید، ڈیڑھ لاکھ سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، غزہ گلوبل قبرستان بن چکا ہے۔
اسحاق ڈار نے خطاب میں کہا کہ سعودی وزیر خارجہ نے مجھے کہا ہمارے پاس دو آپشنز ہیں، ایک آپشن یہ ہے کہ اعلان کردہ معاہدے کو مسترد کردیں، معاہدہ مسترد کرنا اسرائیل کو جارحیت رکھنے کی اجازت دینے کے مترادف ہوگا۔
"سعودی وزیر خارجہ نے کہا دوسرا آپشن ہے کہ معاہدے پر انھیں عمل کرنے دیں، ان کے معاہدے کے بعد ہم اپنا مشترکہ لائحہ عمل بیان کی صورت میں دینگے، اسحاق ڈاع کا کہنا تھا کہ تو میں نے سعودی وزیر خارجہ سے کہا جی آپ صحیح کہہ رہے ہیں”
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم او آئی سی کو جتنا مضبوط بناسکتے ہیں بنانا چاہئے، کئی سالوں سے سیکیورٹی کونسل میں کوئی متفقہ قرارداد پاس نہیں ہوئی لیکن یہ پہلا موقع تھا میں نے جب صدارت کی تو متفقہ طور پر قرارداد پاس ہوئی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فلوٹیلا غزہ کی جانب رواں دواں تھا جس میں ہمارے سینیٹر مشتاق احمد بھی تھے، فارن آفس کی اطلاع کے مطابق 45 فلوٹیلا میں سے 22 کو اسرائیل نے پکڑلیا ہے، اطلاع کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں، جب سے یہ خبر آئی ہم نے یورپی ممالک کو انگیج کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا ہمارے سینیٹر مشتاق کو فوری طور پر ریلیز کرائیں، پاکستان اپنی پوری کوشش کررہا ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے، یہ ہمارا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ اسلامی ذمہ داری ہے، حدیث ہے کہ مسلم امہ ایک جسم کی مانند ہے۔
وزیر اعظم کا فلوٹیلا میں اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار پاکستانیوں کی واپسی کا مطالبہ
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



