The news is by your side.

Advertisement

اسحاق ڈار8مئی کو ذاتی حیثیت میں لازمی پیش ہو جائیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد : چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کو ذاتی حیثیت میں آٹھ مئی کو طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپس نہ آئے تو بیرون ملک گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سینیٹ الیکشن میں اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواست پرسماعت ہوئی۔

سینیٹ اہلیت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسحاق ڈار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کہاں ہیں؟ انہیں لے کر آئیں، جواب میں ملزم کے وکیل سلمان بٹ نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے اسحاق ڈار کو چھ ہفتے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، چھبیس اپریل کو ان کا دوبارہ چیک اپ ہوگا۔

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپ نے عدالت آخری حکم نامہ پڑھا ہے؟ ان سے بات کر کے جواب دیں کہ اسحاق ڈار کب آئیں گے، کل آئیں گے یا پرسوں؟ ہم رات آٹھ بجے تک بیٹھے ہیں۔

وقفے کے بعد بھی وکیل نے یہ ہی جواب دیا کہ اسحاق ڈار بہت بیمار ہیں، چیف جسٹس نے میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وہ اتنے لمبے عرصے سے بیمار نہیں ہوسکتے، واپس آئیں حفاظتی ضمانت دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک قانون شہری کی گرفتاری کا بھی ہے، مفرور ملزم کو کوئی بھی شہری گرفتار کرسکتا یا کراسکتا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جو بھی ہے وہ آئندہ ہفتے وطن واپس آجائیں، زندگی میں کچھ کام دلیری سے بھی کرنے پڑتے ہیں، اسحاق ڈار واپس نہ آئے تو بیرون ملک گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اشتہاری قراردینے سے آئینی حقوق ختم نہیں ہوتے، اسحاق ڈار کا عدالت میں جواب

انہوں نے کہا کہ ابھی وزیراعظم لندن گئے تھے تو اسحاق ڈارنے وزیراعظم سے ملاقات کی، وزیراعظم کو شاید اس قانون کا پتہ نہیں کہ وہ بیرون ملک جاکر ایک مفرور ملزم سے ملاقات کرتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت8 مئی تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔  

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں