اسلام آباد (12 اپریل 2026): نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے امریکا ایران مذاکرات سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران سیز فائر معاہدے کو برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پریس بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا ہماری درخواست پر مثبت ردعمل دینے اور وزیر اعظم کی سیز فائر کی درخواست پر عمل کرنے پر ایران اور امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری رہنے والے مذاکرات آج صبح مکمل ہوئے، پاکستان کی جانب سے اسلام آباد آنے پر ایران اور امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہیں، امید ہے کہ دونوں فریق مثبت سوچ کے ساتھ امن کے لیے آگے بڑھیں گے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ امریکا اور ایران سیز فائر معاہدے کو برقرار رکھیں، پاکستان آنے والے دنوں میں اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے لیے سہولت فراہم کرتا رہے گا۔
بری خبر ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا، امریکا واپس جا رہے ہیں، نائب صدر جے ڈی وینس
واضح رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں متحارب فریقین امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس معاہدہ نہ ہونے کی خبر دے کر امریکا واپس روانہ ہو گئے۔ آج صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا بری خبر ہے ایران کے ساتھ مذاکرات حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے، معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم امریکا واپس جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہماری شرائط نہیں مانے گا، ہم یہاں ایران کے لیے بہترین اور فائنل آفر کے ساتھ مذاکرات چھوڑ رہے ہیں، اب دیکھتے ہیں ایران کیا جواب دیتا ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹے مذاکرات جاری رہے جس میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی جو اچھی خبر ہے، لیکن بری خبر یہ ہے کہ کسی معاہدے تک نہیں پہنچے، یہ امریکا سے زیادہ ایران کے لیے بری خبرہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


