The news is by your side.

Advertisement

افغانستان : گوردوارے پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

کابل : داعش نے افغان دارالحکومت کابل میں سکھوں کے گوردوارے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے، خلیج ٹائمز نے اتوار کو اس کی اطلاع فراہم کی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور طالبان کا ایک سکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوا ہے۔

داعش نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں اس نے کہا کہ یہ حملہ پیغمبر اسلام پر کئے گئے توہین آمیز تبصروں کا جواب تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ داعش نے اس حملے کو بھارت میں بی جے پی کے انتہا پسند ہندو رہنماؤں کی طرف سے توہین رسالت کے دو الگ الگ حالیہ واقعات کا رد عمل قرار دیا ہے تاہم داعش نے کابل میں سکھوں کے گوردوارے کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ ماہ مئی کے اواخر میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپورشرما اور نوین جندال نامی رہنما نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔

اس پر بھارت سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا، بھارت میں یہ احتجاج اس کے باوجود جاری ہے کہ بھارتی حکومت کے ماتحت اداروں نے اس احتجاج کے رہنماؤں میں سے کئی کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کردیا ہے۔

داعش کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ہفتے کے روز کابل میں ہندوؤں، سکھوں اور مرتدین کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا۔

گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کا کہا ہے کہ انہوں نے ملک کو شدت پسندانہ حملوں سے بچانے کے لیے افغانستان کے سکیورٹی نظام میں خاطر خواہ بہتری کی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں شدت پسندانہ حملوں کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں