The news is by your side.

Advertisement

برصغیر میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی آمد اور قیام

ہندوستان وہ خطّہ ہے جہاں بسنے والے قدیم دور میں بھی مختلف مذاہب کے پیرو کار موجود تھے جو اس زمانے کی مذہبی شخصیات اور اپنے بزرگوں کی تعلیمات کے زیرِ اثر زندگی گزارتے رہے۔ بعد میں برصغیر اور بالخصوص ہندوستان میں اسلام کی روشنی پھیلی تو یہاں کے لوگوں نے دینِ حق کو قبول کیا اور آج اس خطّے میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔

سرزمینِ حجاز اور ارضِ فلسطین جہاں اپنے مقدّس و متبرک مقامات اور آسمانی کتابوں کے نزول اور پیغمبروں کی آمد کی وجہ سے عالمِ اسلام میں ہر لحاظ سے اوّلیت اور امتیاز رکھتا ہے، وہیں مشہور ہے کہ اس خطّۂ ارضی یعنی ہندوستان کی خاک نے بھی انبیاء اور رسولوں کی قدم بوسی کی اور اسی کی برکتوں سے آج یہاں کے باسیوں کے دلوں میں ایمان راسخ ہے۔

بعض روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کا ہبوط سرزمینِ ہند پر ہوا یا بیت اللہ کی تعمیر کے بعد یہاں تشریف لائے۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اہلِ سرندیپ نے بھی نبی کریم صلّى الله عليه وسلم کی خدمت میں ایک عقل مند، ذی شعور اور ذکی الفطرت شخص کو تعلیماتِ نبویہ کے مشاہدے کے لیے عرب تاجروں کے ساتھ روانہ کیا تھا، لیکن وہ جب تک مدینہ پہنچا تو پیارے آقا اس دارِ فانی سے پردہ فرما چکے تھے اور وہ خلیفۂ وقت اور صحابہ سے مل کر اپنے وطن لوٹ آیا تھا۔

ایک موٴرخِ اسلام علّامہ قاضی محمد اطہر مبارک پوری کی تحقیق کے مطابق سرزمینِ ہند کو 17 صحابہ کرام کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جب کہ اسی موضوع پر تحقیق کے دوران دورِ حاضر میں محمد اسحاق بھٹی نے لکھا کہ 25 صحابہ مختلف ادوار میں ہندوستان تشریف لائے تھے۔

قاضی اطہر مبارک پوری کی مؤلفہ ”خلافتِ راشدہ اور ہندوستان“ میں جو اسمائے صحابہ پیش کیے گئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: حَکَم بن ابی العاص، حَکَم بن عمرو ثعلبی غفَاری، حضرت خریت بن راشد ناجی سامی، رُبَیَّع بن زیاد حارثی مَذْحَجِی، سنان بن سلمہ ہذَلی، حضرت سہل بن عدی خزرجی انصاری، حضرت صحّار بن عباس عبدی، حضرت عاصم بن عَمرو تمیمی، عبداللہ بن عبداللہ بن عِتبان انصاری اور عبداللہ بن عمیر اَشجعی۔ دوسری طرف محمد اسحاق بھٹی کی تالیف کردہ ”برصغیر میں اسلام کے اوّلین نقوش“ میں جو نام پیش کیے گئے ہیں ان میں شہاب بن مخارق بن شہاب تمیمی، نسیر بن دیسم بن ثور عجلی، حکیم بن جبلہ اسدی، کلیب ابووائل، مُہَلَّب بن ابوصفرہ ازدی عتکی، عبداللہ بن سوّار عبدی، یاسر بن سوّار عبدی، عبداللہ سُوَید تمیمی۔ مؤرخین میں ان اصحاب پر یہ اختلاف ضرور ہے کہ وہ صحابی ہیں یا تابعی تھے۔

صحابہ کے بعد امّتِ مسلمہ کا بہترین طبقہ تابعین ہیں اور ان میں سے کئی ہندوستان بھی تشریف لائے تھے۔ اسی طرح حق و صداقت کا پرچم لہرانے اور دینِ مبین کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے سرزمینِ ہند کی جانب آنے والوں میں تبع تابعین کے نام بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں