کائنات کے اس عظیم کارخانے میں انسان کی حیثیت کیا ہے؟ کیا ہم محض گوشت پوست کا مجموعہ ہیں یا ہمارے اندر کوئی ایسی چنگاری بھی ہے جو ابدیت سے جڑی ہے؟ تصوف اور روحانیت وہ راستے ہیں جو ہمیں مادّے کی قید سے نکال کر حقیقتِ ابدی سے روشناس کرواتے ہیں۔
تصوف اور روحانیت کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے "سمندر اور قطرے” کا استعارہ سب سے جامع ہے۔ تصوف کی مثال اس قطرے جیسی ہے جو تپتی دھوپ میں اپنی ہستی کھو دینے کے ڈر سے سہما ہوا ہے، لیکن جوں ہی وہ سمندر کی آغوش میں گرتا ہے، اس کی فنا ہی اس کی بقا بن جاتی ہے۔
جب تک قطرہ خود کو سمندر سے الگ سمجھے گا، وہ پیاس اور مٹنے کے خوف میں مبتلا رہے گا۔ اس قطرے کا سمندر کی طرف کھنچنا وہ "عشق” ہے جو روح کو اپنے اصل (خالق) کی طرف مائل کرتا ہے۔ روحانیت میں ضم ہو کر تصوف غائب نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود سمندر ہو جاتا ہے۔ اب اس کی اپنی کوئی حد نہیں رہتی؛ جہاں تک سمندر کی وسعت ہے، وہاں تک اس قطرے کی رسائی ہے، اس کا آسان الفاظ میں خلاصہ کریں تو روحانیت خود کو مٹانے کا نام نہیں، بلکہ خود کو "محدود” سے نکال کر "لا محدود” میں شامل کرنے کی کوشش کا نام ہے۔
تصوف محض چند وظائف یا چلہ کشی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ تربیت ہے اور اس کا تصور صرف مسلمان خطّوں تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی تاریخ کے مختلف مذاہب میں اس کی نمایاں جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندو مت میں تصوف سے ملتا جلتا تصور "موکش” یا "نروان” کا ہے، ایسے ہی بدھ مت کے مطابق جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لیتا ہے تو وہ "نروان” حاصل کرتا ہے۔ عیسائیت کا ماننا ہے کہ انسان کے اندر ایک "خداوند کا گوشہ” ہے جہاں تک رسائی صرف خاموشی اور باطنی دعا سے ممکن ہے۔ یہودیت میں بھی باطنی علم اور اس کے ذریعے روح کی بیداری کا تصور موجود ہے۔ اگر روحانیت ایک منزل ہے تو تصوف اس تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ عام دنیاوی علوم ہمیں کائنات اور مادّے کی سمجھ دیتے ہیں اور اس کا ادراک کرواتے ہیں، جب کہ تصوف ہمیں "خود” کی پہچان کرواتا ہے۔
خود کی پہچان کا پہلا قدم باطن کی صفائی ہے۔ اس کا مطلب ہے انسان کو غصہ، حسد، اور تکبر جیسی باطنی بیماریوں سے پاک کرنا۔ باطنی صفائی کو جانچنے کا پیمانہ مادّی چیزوں سے غیر وابستگی اور اپنے خالق سے تعلق میں مضبوطی ہے۔
روحانیت وہ مقام ہے جہاں انسان مادّی حدود (Space and Time) سے آزاد ہو کر ایک وسیع تر شعور میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان "قال” (بات) سے نکل کر "حال” (کیفیت) میں داخل ہوتا ہے۔
روحانیت کا مقصد انسان کو اس کے اصل یعنی "نورِ الٰہی” سے جوڑنا ہے۔ جب سالک کا باطن شفاف ہو جاتا ہے، تو کائنات کے اسرار اس پر ایسے ہی منکشف ہونے لگتے ہیں جیسے شفاف پانی میں تہ کے پتھر نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ سفر "میں” سے "تو” تک کا سفر ہے، جہاں سالک کی مرضی، رضائے الٰہی میں ڈھل جاتی ہے۔
روحانیت کا راستہ جتنا پرکشش ہے، اتنا ہی پرپیچ اور خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر نفس کے دھوکے اور شیطان کے وسوسے ملتے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اس راہ میں مرشد کی ضرورت ناگزیر ہے۔ جیسے ایک مسافر کے لیے قطب نما یا اندھیری غار میں مشعل بردار کی اہمیت ہوتی ہے، وہی مقام روحانیت میں مرشد کا ہے۔
مرشد اس راستے سے خود گزر چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ مرید کو ان گڑھوں سے بچاتا ہے جن میں ایک مبتدی گر سکتا ہے۔ مرشد کا سب سے اہم کام مرید کے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ اس کے اصل (خدا) سے جوڑنا ہے۔ وہ ایک واسطہ بنتا ہے جس کے ذریعے مرید کے بنجر دل پر روحانی انوار کی بارش ہوتی ہے۔
یہ قول مولانا رومؒ سے منسوب ہے کہ "جس کا کوئی پیر (مرشد) نہیں، اس کا پیر شیطان ہے۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر رہنمائی کے انسان اکثر اپنی "انا” (Ego) کو ہی اپنی روحانیت سمجھ بیٹھتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، جب کہ وہ اپنی انا کے جال میں پھنس رہا ہوتا ہے۔ ایک کامل مرشد اسی انا کو توڑنے کا فن جانتا ہے۔
تصوف اور روحانیت کا حاصل صرف ایک ہی ہے، محبت۔ خالق سے محبت اور اس کی مخلوق سے محبت۔ مرشد وہ کیمیا گر ہے جو تانبے جیسے انسان کو اس محبت کی آنچ دے کر کندن بنا دیتا ہے۔ اگر آپ بھی اس محدود زندگی کی بے چینی سے نکل کر لا محدود سکون کا ذائقہ چکھنا چاہتے ہیں، تو اپنے باطن کے سفر کا آغاز کریں، کیونکہ سمندر آپ کا منتظر ہے!


