The news is by your side.

Advertisement

اسلام سلامتی کا مذہب ہے، برطانوی وزیر اعظم

لندن: برطانوی وزیر اعظم ٹریزامے نے اسلام کو سلامتی کا مذہب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محبت والے دین کا تعارف حاصل کرنے کے لیے سب کو اس کی تعلیمات سے روشنا ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے اتوار کے روز مسلم کیمونٹی کی جانب سے منعقدہ پروگرام ’میری مسجد کا دورہ کریں‘ #VisitMyMosque  میں شرکت کی اور اسلام کو سلامتی کا مذہب قرار دیا۔

اس موقع ٹریزامے نے حجاب زیب تن کیا ہوا تھا اُن کی تصاویر سامنے آئیں تو برطانیہ میں مقیم مسلمانوں نے اسے اچھا اقدام قرار دیا، خاتون وزیر اعظم نے لندن کے جنوب مشرق میں واقعہ کاؤنٹی برکشائر کی میڈن مسجد میں شرکاء سے خطاب بھی کیا۔

مزید پڑھیں: برطانوی وزیراعظم نےحجاب پہننے کی حمایت کردی

ٹریزامے کا کہنا تھا کہ بہت سارے لوگوں نے شدت پسندوں کو اسلام سے جوڑ کر اسے شدت پسندی کا دین بنانے کی کوشش کی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سلامتی کا دین ہے جو اخوت و بھائی چارگی اور یکساں مساوات کا درس دیتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مسلم کیمونٹی کے پروگرام میں شرکت میرے لیے باعث فخر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مجھے اسلام کا تعارف حاصل کرنے کا قیمتی موقع ملا، اسلام کی اصل تعلیمات سامنے آئیں اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شدت پسندی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو قتل کرنے کی سازش بے نقاب

مسلم کیمونٹی کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں لندن کے میئر صادق خان سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، اس موقع پر لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کورین نے بھی خصوصی دعوت نامے پر شرکت کر کے مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس ایونٹ کے انعقاد کا مقصد دیگر مذاہب کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا ہے تاکہ ملک میں موجود دیگر مذاہب کو ماننے والے بھی ہمارے نقطہ نظر کو سمجھ سکیں۔

لیبر پارٹی کے سربراہ

پروگرام کے تحت برطانیہ کی 200 سے زائد مساجد کے دروازے دیگر مذاہب کے لوگوں کے لیے کھولے گئے، ایونٹ میں عام شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔

برطانوی کونسل کے سیکریٹری جنرل ہارون خان نے پروگرام کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ دو برس کے مقابلے میں اس سال ایونٹ بڑی سطح پر منعقد کیا گیا‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں