اسلام آباد: نجکاری کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ کی پرائیویٹائزیشن سے متعلق افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجکاری کمیشن نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی پرائیویٹائزیشن سے متعلق گردش کرنے والوں افواہوں پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور یواےای کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں تھا جو منسوخ کیا جاتا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت اب 3 بڑے ایئرپورٹس کو طویل مدتی کنسیشن کے تحت آؤٹ سورس کررہی ہے، ان میں اسلام آباد، کراچی کا جناح ایئرپورٹ اور لاہورکا علامہ اقبال ایئرپورٹ شامل ہے۔
نومبر2025 میں جی ٹو جی موڈ سے ہٹ کر اوپن بڈنگ پر جانے کا فیصلہ کیا گیا، آؤٹ سورسنگ کی اوپن بلڈنگ کا مقصد ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو مساوی مواقعوں کی فراہمی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ آؤٹ سورسنگ سے ایئرپورٹس کی کارکرد گی بڑھانے میں مدد ملے گی اور مسافروں کو بہتر سروسزملیں گی۔
آؤٹ سورسنگ سے ایئرپورٹس کی آمدن میں اضافہ اور انفرااسٹرکچر اپ گریڈیشن میں مدد ملےگی، آؤٹ سورسنگ سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملےگی۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے بات چیت جاری ہے، ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ پاکستان کی معیشت کومضبوط کرنے کا پلان ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


