The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، برطانوی پولیس نےانتہائی اہم شواہدعدالت میں پیش کر دیے

اسلام آباد : ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی پولیس کے 3 اہم گواہوں نے بیان ریکارڈ کرادیا اور ساتھ ہی کیس کے انتہائی اہم شواہدعدالت میں پیش کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداددہشت گردی عدالت میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی ، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی۔

عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی پولیس کے تین گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور بیان قلمبند کرایا، برطانوی گواہان میں لندن پولیس چیف انسپکٹر،سارجنٹ ، کانسٹیبل شامل ہیں۔

برطانوی حکام نے انتہائی اہم شواہد بھی عدالت میں پیش کئے، شواہد میں آلہ قتل،ایک اینٹ، دو تیز دھار چاقو،واقعےکی فوٹیج، فنگرپرنٹس،کرائم سین کا نقشہ شامل ہیں۔

چیف انویسٹی گیشن افسر اسٹیورڈ گرین وے نےبیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ اس کیس کی تفتیش کا نام آپریشن ہیسٹار رکھا، انھوں نے ملزم محسن کا تعلیمی ریکارڈ، برطانیہ پہنچنے کے دستاویز اور ای میلز بھی پیش کیں۔

تین گرفتار ملزمان خالد شمیم، محسن اور معظم علی کو بھی سخت سیکورٹی میں پیشی پر لایاگیا، دوران سماعت ایک موقع پر ملزم معظم نے ایک ہاتھ سے ہتھکڑی کھولنے کی درخواست کی اور کہا چار گھنٹے سے ہتھکڑی لگی ہے، جس پر فاضل جج نے کہا آپ ابھی بیٹھ جائیں کچھ کرتے ہیں۔

اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ اسلام آباد پولیس کے تازہ دستے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تعینات تھے۔

یاد رہے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں عدالت نے غیرملکی گواہان کو پیش کرنے کے لیے20 سے 25دن کی مہلت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 2 دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، ایف آئی اے نے بتایا کہ مارچ کی وجہ سے گواہان کو پیش کرنے میں خطرہ تھا۔

مزید پڑھیں : عمران فاروق قتل کیس ، تین اہم برطانوی گواہ پاکستان نہ آسکے

اس سے قبل سماعت میں برطانوی حکومت سے ملنےوالے شواہد اسلام آباد کی انسداددہشت گردی عدالت میں پیش کئے گئے تھے، جن میں عمران فاروق قتل کی ویڈیو فوٹیج اور آلہ قتل کے ساتھ فرانزک رپورٹس شامل تھیں۔

خیال رہے برطانیہ نے عمران فاروق قتل کیس کے تمام شواہد پاکستان کو فراہم کرنے کے لئے رضامندی ظاہر کی تھی جبکہ پاکستان نے برطانیہ کو ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا، حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔

برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے گئے تھے، چھاپے کے دوران وہاں سے 5 لاکھ سے زائد پاونڈ کی رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی تھی۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے 2015ءمیں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اسی سال محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں