The news is by your side.

فیصل مسجد کے احاطے میں خاتون کی وائرل ویڈیو پر انتظامیہ کا ایکشن

اسلام آباد کی فیصل مسجد کے احاطے میں خاتون کو ٹک ٹاک ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں خاتون ٹک ٹاکر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پولیس نے ایکشن لے لیا۔

اسلام آباد کے تھانہ مارگلا میں ٹک ٹاکر کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ محسن اسحاق نامی شہری کی مدعیت میں تھانہ مارگلا درج کیا گیا ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق مسجد کے احاطے میں خاتون نے غیر مناسب لباس اور انتہائی غیرمہذبانہ انداز میں مسجد کے تقدس کو پامال کیا ہے۔

مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ ’خاتون کے اقدام سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

شہری نے پولیس کو دائر درخواست میں خاتون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے بعد ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مارگلہ ہلز پر آگ لگانے والی ٹک ٹاکر نے وضاحت دے دی

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں مارگلا ہلز میں خاتون ٹک ٹاکر نے فوٹو شوٹ کے لیے مبینہ طور پر آگ لگا دی جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی۔

ٹک ٹاکر ڈولی نے بعدازاں اپنی وضاحت میں کہا کہ ’میں کئی سالوں سے نیشنل پارک کوہسار گئی ہی نہیں ہوں، اس حوالے سے آپ لوگ پوری طرح تحقیقات کر سکتے ہیں میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ رہی ہوں۔‘

خاتون ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ  میں ہری پور سے اپنی میک اپ کلاس لے کر موٹروے پر سفر کر رہی تھی اور وہاں میں نے یہ منظر دیکھا جہاں آگ لگی ہوئی تھی، اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی ہے بیان کے ساتھ جو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کروں گی، آپ سب نے دیکھنی ہے تاکہ آپ کو حقیقیت معلوم ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں