اسلام آباد(16 اپریل 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس میں سخت حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب اسلام آباد کی حدود میں ایک بھی درخت کٹا تو اسے توہینِ عدالت تصور کیا جائے گا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کے رویے پر شدید حیرانگی اور افسوس کا اظہار کیا۔ ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ ہم اس شہر میں رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ خوبصورت رہے۔ کسی زمانے کا کراچی دیکھیں اور آج کا کراچی دیکھیں، آپ کو فرق پتہ چل جائے گا۔
عدالت نے تنبیہ کی کہ گزشتہ سوا سال میں کسی کو سزا نہیں دی، لیکن اب اگر سی ڈی اے کا کوئی بھی افسر درختوں کی کٹائی میں ملوث پایا گیا تو اسے توہینِ عدالت میں سزا دی جائے گی۔
سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف نائن پارک سے 12 ہزار 800 ‘پیپر ملبری’ کے درخت کاٹے گئے اور ان کی جگہ 40 ہزار نئے پودے لگائے گئے ہیں۔
وکیل نے بتایا کہ صحافی سلیم صافی نے اس حوالے سے پروگرام کیا تھا جس پر وزیراعظم آفس نے نوٹس لیا اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی رائے پر یہ درخت کاٹے گئے کیونکہ یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ بتائے گئے تھے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کس درجے کی ریسرچ تھی کہ یہ درخت نقصان دہ ہیں؟ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ قدرت کا قانون اس بات کی حمایت نہیں کرتا کہ اگتی ہوئی چیز نقصان دہ ہو۔
انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے محکمے نے بغیر کسی مستند اور تسلیم شدہ ریسرچ کے اتنا بڑا آپریشن کر دیا۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس سلسلے میں کسی ایگریکلچر یونیورسٹی سے معاونت لی گئی تھی؟ جس پر وکیل نے آئندہ سماعت پر جواب دینے کی مہلت مانگی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اب کہہ رہی ہے کہ ان کی منظوری شامل نہیں تھی۔
عدالت نے حکم دیا کہ اب جو چیز جہاں ہے وہیں رہے گی اور کسی مستند انوائرمنٹل ایکسپرٹ کی رائے کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ کیس کی سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے مستند ماحولیاتی ماہر کو بھی طلب کر لیا ہے۔


