The news is by your side.

حکومت کا ججز سے سرکاری رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن معطل

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے حکومت کا ججز سے سرکاری رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا، تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سماعت تک رہائش گاہ واپس نہیں لی جاسکتیں، کیس کی سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ملک بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے سے متعلق کی سماعت ہوئی، تحریری حکم کے تحت وزارت ہاؤسنگ کا 28 مارچ کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا، جسٹس شوکت عزیز نے سرکاری رہائش گاہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن معطل نہیں کیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کا ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن بددنیتی پر مبنی ہے، وفاقی وزیر اور سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو کوئی استثنیٰ نہیں، وزیر ہاؤسنگ، سیکریٹری ہاؤسنگ، اسٹیٹ افسر عدالت میں پیش ہوں، عدالت میں پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی کچہری کے ججز کمرشل ایریا میں عدالتیں لگائے ہوئے ہیں، ججز قانون کے تحت سرکاری رہائشیں رکھنے کے اہل ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججوں سے سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، ان میں نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند بھی شامل ہیں.

خیال رہے کہ 2008 میں وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو سرکاری رہائش گاہیں الاٹ کی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں