site
stats
پاکستان

الیکشن ایکٹ ترمیمی رپورٹ 30 نومبر تک جمع کرائی جائے،اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

Islamabad High Court

اسلام آباد : جسٹس شوکت صدیقی نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ پرعدالتی حکم پر جواب داخل نہیں کیا گیا جب کہ راجہ ظفرالحق کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کی جائے.

یہ احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے دیئے اس موقع پرعدالت میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے.

اے آر وائی نیوز کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2صفحات پرمشتمل حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے جسے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تحریر کیا ہے.

اے آر وائی نیوز کو موصول حکم نامے کی کاپی کے متن کے مطابق عدالت نے راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے جس کے لیے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے.

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری داخلہ کے مطابق راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ حتمی نہیں جب کہ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ یہ کمیٹی سابق وزیراعظم نوازشریف کے حکم پرتشکیل دی گئی تھی.

حکم نامے میں بیرسٹر ظفر اللہ کو 30 نومبر کو الیکشن ایکٹ ترمیم رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا جب کہ ترمیمی کمیٹی کے کردار پر بھی عدالت نے رپورٹ طلب کرلی ہے بعد ازاں کیس کی سماعت 4 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی تھی.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top