اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا کے سالانہ اشتہاری آمدن کے نظام کو بلاجواز قرار دے دیا ہے۔
ٹی وی چینلز سے اشتہارات کی مد میں سالانہ 5 فیصد محصول کے پیمرا نوٹسز کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں ہائیکورٹ نے تمام متنازع ڈیمانڈ نوٹس کالعدم قرار دے دیے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پیمرا رولز 2009 سے پہلے کی آمدن کی وصولی غیرقانونی، غیر مجاز ہے، ریگولیٹری فیس تب جائز ہے جب تعلق پیمرا اخراجات، خدمات سے ہوں۔
یہ پڑھیں: چینلز کو مسلسل پیمرا کے اعلانیہ، غیراعلانیہ پابندیوں کے احکامات کا سامنا ہے،ایمنڈ
ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ پیمرا ثابت نہیں کرسکا کہ وصولی ریگولیٹری اخراجات سے مطابقت رکھتی ہے، سالانہ اشتہاری آمدن کی مد میں وصولی زیادہ تر ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے تھی، چینلز سے سالانہ اشتہاری آمدن وصولی عام اخراجات کے لیے کرنا غیر منصفانہ ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 کی ترامیم ماضی پر لاگو نہیں ہوں گی، ڈیمانڈ نوٹس محض ریکوری نوٹس ہیں، لائسنس کی معطلی یا منسوخی کا حکم نہیں دیتے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائسنس معطلی، یا منسوخی سے پہلے باقاعدہ شوکاز لازمی ہوگا۔


