The news is by your side.

Advertisement

شیریں مزاری کو رات ساڑھے گیارہ بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کے غیر قانونی اغوا کے خلاف درخواست پر حکم نامہ جاری کر دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیٹی ایمان مزاری کی درخواست پر حکم جاری کیا۔

عدالت نے شیریں مزاری کو رات ساڑھے گیارہ بجے تک پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور  سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا۔ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹسز جاری کر دیے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ یقینی بنائیں شیریں مزاری کو آج رات ساڑھے 11 بجے پیش کیا جائے، پیش ہو کر بتائیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی گئی؟

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ARY News (@arynewstv)

خیال رہے کہ شیریں مزاری کو آج اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق شیریں مزاری کیخلاف ڈی جی خان میں اینٹی کرپشن کے تحت مقدمہ درج تھا، گرفتاری کے بعد انہیں تھانہ کوہسار سے ڈیرہ غازی خان منتقل کردیا گیا ہے۔

اس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے پی ٹی آئی کی رہنما کی رہائی کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام ہیں، کسی بھی خاتون کی گرفتاری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے عمل سے اتفاق نہیں کرتا، اگر تفتیش میں گرفتاری ناگزیر ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنالے گا، شریں مزاری کو گرفتار کرنے والے عملے کیخلاف تحقیقات ہوگی۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ ن لیگ بحیثیت سیاسی جماعت خواتین کے احترام پر یقین رکھتی ہے، راولپنڈی پولیس کو ہدایت کردی ہے کہ شیریں مزاری کو رہا کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں