اسلام آباد (14 فروری 2026): وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کا اپنے سابق ہم منصب علی امین گنڈاپور کے ہمراہ کے پی کے ہاؤس کے سامنے دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں گزشتہ روز احتجاج میں شرکت سے روک دیا گیا تھا، جس کے بعد انھوں نے کے پی ہاؤس اسلام آباد کے باہر دھرنا دے دیا، ان کے ساتھ پارٹی کارکن بھی شریک ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ منتخب نمائندوں کے ساتھ پولیس کا رویہ غیر مناسب ہے۔
آج کے پی ہاؤس کے سامنے دھرنے کا دوسرا روز ہے، وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی اور سابق وزیر اعلیٰ دھرنا گاہ میں موجود ہیں، دھرنے کے شرکا پرامن طور پر چٹائیوں اور کرسیوں پر بیٹھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔
سی ایم کے پی کے اور ایم پی ایز کی سیکیورٹی کے لیے کے پی کے پولیس تعینات ہے، میریٹ کے سامنے پولیس کے تازہ دم دستے پہنچ چکے ہیں، اور دو بکتر بند گاڑیاں بھی موجود ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی سے اہم حکومتی شخصیات کا رابطہ
دوسری جانب سے اس دھرنے کے باعث بلوچستان ہاؤس کے مکین متاثر ہو گئے ہیں، وزیر بلوچستان ظہور احمد بلیدی راستہ بند ہونے پر باہر نہ نکل سکے، ظہور احمد بلیدی بعد ازاں واپس بلوچستان ہاؤس روانہ ہو گئے۔
میریٹ کے سامنے راستہ بند ہے، اور عام شہریوں کے پیدل گزرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، پولیس حکام نے وارننگ جاری کی ہے کہ زبردستی گزرنے کی کوشش پر بکتر بند گاڑی میں ڈال دیا جائے گا۔


