اسلام آباد : ترلائی میں مسجد میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سےمتعلق مزید انکشافات سامنے آئے کہ وہ کیسے مسجد پہنچا؟
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خودکش دھماکے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، پولیس نے مزید معلومات جمع کرلیں۔
تحقیقات کے دوران خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سےمتعلق مزید انکشافات سامنے آئے۔
پولیس نے بتایا کہ چھبیس سال کا حملہ آور یاسر خودکش جیکٹ پہن کر نوشہرہ سے اسلام آباد پہنچا، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا اور حملے سے قبل قریبی ہوٹل میں تھوڑی دیر بیٹھا پھر کھنہ روڈ سے پیدل امام بارگاہ آیا۔
پولیس کا کہنا ہے یاسر ڈیڑھ سال گھر سے غائب رہا اور کبھی کبھار گھر فون کرتا تھا۔
یاد رہے مسجد خدیجة الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے سے تینتیس نمازی شہید، ایک سو انچاس افراد زخمی ہوئے، جس میں سے اٹھانوے اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، جن میں تیس کی حالت تشویشناک ہے۔
حملے میں چار سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، دھماکا اتنا زوردار تھا کہ حملہ آور کا بازو برابر والے گھر سے ملا۔


