منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کی منظوری کس نے دی؟ سی ڈی اے نے عدالت کو بتا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (03 جنوری 2026): وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیا گیا جواب سامنے آ گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پیپر ملبری کی کٹائی کی منظوری وزیر اعظم آفس نے دی تھی۔

سی ڈی اے نے اسلام آباد درختوں کی کٹائی کے کیس میں 6 صفحات کا جواب ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا، جس میں اس نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2022 میں ماحولیات کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، جس پر انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر اداروں کو کمیٹی میں شامل کیا گیا، اس کے بعد 2023 میں پولن الرجی کے خاتمے سے متعلق کمیٹی میٹنگ اور پھر پبلک ہیئرنگ رکھی گئی کہ پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کیوں ضروری ہے۔

سی ڈی اے نے بتایا کہ پولن الرجی پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے پیپر ملبری درختوں کی کٹائی سے متعلق سائنٹیفک ریسرچ بھی موجود ہے، اور پولن الرجی کے خاتمے سے متعلق صحافی سلیم صافی نے 2024 میں ایک آرٹیکل بھی لکھا تھا، اور وزیر اعظم آفس نے نوٹس لے کر سی ڈی اے کو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔

لاہور : ایئرپورٹ کے قریب آبادیوں میں پتنگ بازی پر پابندی عائد

سی ڈی اے کے مطابق یہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں ہوا، بلکہ اعلی عدلیہ کے فیصلوں، ریسرچ، میٹنگز کے بعد وزیر اعظم آفس کی منظوری سے ہوا، پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کر کے ماحول دوست درخت اس کی جگہ لگا دیے گئے۔

سی ڈی اے کہا درختوں کی کٹائی کے معاملات باقاعدہ شفاف ٹینڈر کے تحت ہوتے ہیں، اگر کوئی متاثرہ فریق ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے، اسلام آباد ہائی وے کے ساتھ پیپر ملبری درختوں کی کٹائی 2022 میں بھی کی گئی تھی، معرکہ حق یاد گار کی منظوری حکومت نے دی، سی ڈی اے نے پراجیکٹ شروع ہونے سے پہلے زمین پلاننگ منسٹری کے حوالے کی، اس جگہ سے درخت شکر پڑیاں سمیت دوسری جگہ منتقل کیے گئے ہیں۔

سی ڈی اے نے عدالت سے درختوں کی کٹائی روکنے کے حوالے سے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں