جمعرات, مارچ 12, 2026
اشتہار

اسلام آباد پولیس کو ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کو بازیاب کرانے کیلئے 3 دن کی مہلت

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے پولیس کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کو تین دن میں بازیاب کرانے کی مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کے اغوا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے مغوی کی اہلیہ روزینہ عثمان کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار اہلیہ روزینہ عثمان کی جانب سے راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران مغوی کی اہلیہ اور درخواست گزار روزینہ عثمان کے بھی لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا، راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ پٹیشنر کہاں ہیں، خدشہ ہے کہ کہیں انہیں بھی نا اٹھا لیا گیا ہو، پٹیشنر نے مجھے فون کر کے کہا کہ ان پر پٹیشن واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

راجہ رضوان کا کہنا تھا کہ پٹیشنر کے شوہر اہم کیسز پر کام کر رہے تھے جنہیں وائٹ کرولا میں اغوا کر لیا گیا، اب پٹیشنر کا فون بھی آف جا رہا ہے اور ان سے رابطہ نہیں، استدعا ہے ڈائریکٹر این سی سی آئی اے اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا جائے۔

پولیس نے بتایا کہ ہمارے کوشش ہو گی کہ آج شام تک ہی بازیاب کرائیں لیکن عدالت سے استدعا ہے کہ سات دن کی مہلت دیں۔

جس پر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایسی مشکوک گاڑی میں اغوا کیا گیا جس کی نمبر پلیٹ ہی جعلی ہے تو جسٹس محمد اعظم خان نے استفسار کیا کہ “اگر نمبر پلیٹ جعلی تھی تو وہ گاڑی اسلام آباد میں آزادانہ کیسے گھوم رہی تھی؟”

جسٹس محمد اعظم نے مزید کہا یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، آپ کے شہر میں ناکے لگے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی موجود ہیں،پٹیشنر کو دباؤ ڈالنے کے لیے جو کالز آئیں اس کا سی ڈی آر سے پتہ کرائیں۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہو گیا ہے، استدعا ہے کہ پولیس کو تفتیش کے لیے کچھ وقت دے دیں ، مغوی افسر کا 14 اکتوبر کو رہائشی اپارٹمنٹ کی بیسمنٹ پارکنگ سے اغوا کا مقدمہ تھانہ شمس کالونی میں درج ہے۔

عدالت نے پولیس کو تین دن میں مغوی کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا، جسٹس محمد اعظم خان نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ “آپ بازیاب کروائیں، ورنہ ہم بھی وہی آرڈر دینا شروع کر دیں گے جو باقی بینچ دے رہے تھے۔”

عدالت نے کہا اگر پولیس تین دن میں بازیاب نا کرا سکی تو سنٹرل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے اور آئی جی اسلام آباد خود پیش ہو۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں