اسلام آباد کا دھرنا سترویں روز بھی جاری islamabad sit in enters
The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد کا دھرنا سترویں روز بھی جاری

اسلام آباد : اسلام آباد میں مذہبی جماعت کی جانب سے دیا جانے والا دھرنا سترہویں روز بھی جاری ہے، مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن تاحال کوئی حل نہیں نکالا جاسکا۔ دھرنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد میں سترہویں روز بھی دھرنا جاری ہے ، حکومت کی کوششیں ناکام رہی، بار بار کے مذاکرات کے باوجود ڈیڈ لاک برقرار ہے، علما و مشائخ کا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا، دھرنے والے وزیرقانون کے استعفے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

دھرنے کی سیکیورٹی کے نام پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کیے ہوئے ہیں، جس سے لوگ شدید اذیت سے دوچار ہیں، جڑواں شہروں کا کہنا ہے کہ بچوں کا اسکول جانا، مریضوں کواسپتال پہنچانا اور ڈیوٹی پر جانا محال ہوگیا ہے۔

سجادہ نشین گولڑہ شریف دھرناختم کرانے کیلئے مسلسل متحرک ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ دھرنامنتظمین کے مطالبات جائزہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود حکومت دھرنے والوں کو نہیں ہٹا سکی۔

دوسری جانب اسلام آباد میں جاری دھرنے کی حمایت میں کراچی میں ٹاور پر علامتی دھرنے کے بعد پرانی نمائش پر دیا جانے والا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد دھرنے کے رہنمائوں کے مطالبات تسلیم کئے جائیں اور انتخابی قوانین میں تبدیلی کرنے والے اصل چہرے سامنے لائے جائیں ۔

کراچی میں جاری دھرنے سے رش کے اوقات میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔


مزید پڑھیں : ہائیکورٹ بارکو دھرنے والوں سے بات کرنے اورعدالتی فیصلے سے آگاہ کرنے کا ٹاسک دے دیا


گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز نے ہائیکورٹ بار کو دھرنے والوں سےبات کرنے اورعدالتی فیصلے سے آگاہ کرنے کاٹاسک دے دیا اور کہا کہ عاشقان مصطفی ﷺبلندعالی مرتبت لوگ ہیں، شاید ملک آپ کی کوشش سے افراتفری سے بچ سکے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روزاسلام آباد ہائیکورٹ نے وزرات داخلہ کوایک بارپھر دھرنا ختم کرانے کی ہدایت کی تھی، جس پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت سے اڑتالیس گھنٹے کا وقت لیاتھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں