پیر, جون 8, 2026
اشتہار

ہارون الرشید کا تذکرہ جنھیں دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا کی تاریخ میں اسلامی حکومتوں اور دورِ خلافت کے ساتھ جب بھی بغداد کا تذکرہ آتا ہے، بادشاہ ہارون الرشید کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ وہ افسانوی شہرت کے حامل حکم راں تھے۔ ہارون الرشید نے ایک تہذیب کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا اور اسلامی تاریخ کے ایسے عباسی خلیفہ بنے جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ ان پر کہانیاں اور ناول لکھے گئے۔ جدید دور میں ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے علاوہ یوٹیوب پر ان کے عہد کا بغداد دیکھا جاسکتا ہے، خلفیہ کا طرزِ حکم رانی اور ان کی شخصیت پر ویڈیوز بہت مقبول ہیں۔

ابو جعفر ہارون بن محمد المہدی کو ہارون الرشید کے نام سے اسلامی دنیا میں شہرت اور بطور حکم راں امتیاز حاصل ہے۔ ان کی پیدائش کا سنہ 763ء بتایا جاتا ہے اور ان کا انتقال 24 مارچ 809ء کو ہوا تھا۔ تاریخ دانوں کے مطابق اس پانچویں اور مشہور ترین عباسی خلیفہ نے شہر رے میں آنکھ کھولی۔ انھوں نے 786ء میں مسندِ خلافت سنبھالی تھی۔ ہارون الرشید کی شریکِ حیات بھی اسلامی دنیا کی مشہور شخصیت ہیں۔ ان کی یہ شہرت ایک نیک سیرت اور سخی خاتون کے ساتھ اس نہر کی بدولت ہے جسے حاجیوں کے سیراب کرنے کے لیے زبیدہ خاتون نے تعمیر کروایا تھا۔

ہارون الرشید کا عہد سائنسی، ثقافتی اور مذہبی رواداری کا دور کہلاتا ہے۔ انھوں نے بغداد میں لائبریریاں، بیت الحکمت کی بنیاد رکھی۔ اور اپنے دور حکومت میں، بغداد کو علم، ثقافت اور تجارت کے مرکز کے طور پر پروان چڑھایا۔ ہارون الرشید کی تخت نشینی پر اُن کی سلطنت وسطیٰ ایشیا سے لیبیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ تاریخ دانوں کے مطابق ہر اعتبار سے خلیفہ کا دور ترقی اور کامرانی کا دور تھا۔ اس نے زندگی کے ہر گوشے کو اپنی اولوالعزمی اور ذوق و شوق سے نقطۂ عروج پر پہنچا دیا۔ شعر و شاعری پر توجہ کی اور علماء و فن کاروں کی سرپرستی اور قدر دانی کی جس نے بغداد کو علم و فنون کا گویا مرکز بنا دیا۔ بیتُ الحکمت کے قیام کے ساتھ دنیا بھر کا علم عربی زبان میں منتقل ہونے لگا اور خوب خوب ترقی ہوئی۔ مسلمان مؤرخین ہی ہیں جدید دور میں تحقیق کے بعد مغرب اور یورپ کے بڑے ناموں نے بھی لکھا کہ بادشاہ کے زمانہ میں حکومت کا بڑا وقار تھا۔ اس کی سلطنت کا رقبہ وسیع تھا۔ دنیا کے بڑے حصے سے خراج آتا تھا۔ اور علماء کے ساتھ فن کار بھی خلیفہ کے دربار میں جمع تھے جو انعام پاتے اور ترقی کرتے تھے۔ ہارون کے دور حکومت میں خزانہ بھرا ہوا تھا اور رعایا مرفہ الحال تھی۔ خلیفہ رعایا کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ عوام میں‌ مقبول تھا۔

تاریخ دانوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہارون بڑا شجیع اور بہادر تھا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں غصہ بھی بلا کا تھا۔ پھر ایک عیب اس میں یہ بھی تھا کہ وہ کانوں کا کچا تھا۔ چغل خوروں کی باتیں غور سے سنتا تھا اور اُن پر یقین کر لیتا تھا۔ دشمن اس کے قابو میں آجاتا تو اسے عبرت ناک سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں