The news is by your side.

Advertisement

بھوکا پڑوسی اور احمد بن اسکافؒ

اولیا اللہ، بزرگانِ‌ دین اور صوفیائے کرام کی زندگی کے حالات و واقعات، معتقدین اور پیرو کاروں کے لیے نصیحتیں اور سبق آموز باتیں سینہ بہ سینہ اور مختلف ادوار میں تحریر کی گئی کتابوں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں اور ہماری ہدایت اور راہ نمائی کرتی ہیں۔

یہاں ہم ایسا ہی ایک واقعہ نقل کررہے ہیں جو حقوقُ العباد اور پڑوسیوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے دینی اور اخلاقی تعلیم کا متاثر کُن پہلو ہمارے سامنے اجاگر کرتا ہے۔ یہ واقعہ حکایاتِ صوفیہ نامی کتاب میں موجود ہے جو مختلف ادوار میں ترتیب و تدوین کے عمل سے گزرتی رہی ہے۔

حضرت احمد بن اسکاف دمشقی رحمۃ اللہ علیہ نے حجِ بیتُ اللہ کے ارادے سے کئی سال میں ایک خطیر رقم جمع کی۔ حج سے چند دن پہلے انہوں نے ہمسایہ کے گھر میں اپنے بیٹے کو کسی کام سے بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد وہ منہ بسورتا ہوا واپس آیا۔

ابنِ اسکافؒ نے پوچھا، بیٹے خیر تو ہے، تم روتے کیوں ہو؟ اس نے کہا، ہمارے پڑوسی گوشت روٹی کھا رہے تھے، میں منہ دیکھتا رہا اور انہوں نے مجھے پوچھا تک نہیں۔ ابنِ اسکافؒ رنجیدہ ہو کر ہمسائے کے گھر گئے اور کہا سبحان اللہ، ہمسایوں کا یہی حق ہوتا ہے جو تم نے ادا کیا۔ میرا کمسن بچہ منہ تکتا رہا اور تم گوشت روٹی کھاتے رہے، اس معصوم کو ایک لقمہ ہی دے دیا ہوتا۔

یہ سن کر پڑوسی زار زار رونے لگا اور کہنے لگا، ہائے افسوس اب ہمارا راز فاش ہوگیا۔ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل۔ خدا کی قسم، پانچ دن تک میرے گھر والوں کے منہ میں ایک دانہ تک نہیں گیا، لیکن میری غیرت کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے روکتی تھی، جب نوبت ہلاکت تک پہنچی تو ناچار جنگل گیا، ایک جگہ مردہ بکری پڑی تھی، اس کا تھوڑا سا گوشت لے لیا اور اسی کو ابال کر ہم کھا رہے تھے، یہی سبب تھا کہ ہم نے آپ کے بچّے کو کچھ نہ دیا، ورنہ یہ کب ہوسکتا تھا کہ ہم گوشت روٹی کھائیں اور آپ کا بچّہ منہ تکتا رہے۔

یہ سن کر احمد بن اسکافؒ پر رقّت طاری ہوگئی۔ بار بار کہتے کہ اے احمد تجھ پر افسوس ہے کہ تیرے گھر میں تو ہزاروں درہم و دینار پڑے ہوں اور تیرے ہمسایوں پر فاقے گزررہے ہوں۔ قیامت کے دن تو اللہ کو کیا منہ دکھائے گا اور تیرا حج کیسے قبول ہوگا؟ پھر وہ گھر گئے اور سب درہم و دینار جو حج کی نیت سے جمع کیے تھے، چپکے سے لا کر با اصرار ہمسائے کو دے دیے اور خود اپنے گھر میں بیٹھ کر یادِ الٰہی میں مشغول ہوگئے۔

حج کا زمانہ آیا تو حجاج میں مشہور صوفی بزرگ حضرت ذوالنّون مصریؒ بھی شامل تھے۔انہوں نے جبلِ عرفات پر ایک غیبی آواز سنی کہ اس سال احمد بن اسکاف دمشقیؒ نے حج کی نیت کی، لیکن وہ نہ آسکا، ہم نے اسے حجِ اکبر کا ثواب عطا کیا ہے اور دوسرے بہت سے حجاج کا حج بھی اس کے سبب قبول فرمایا ہے۔ حضرت ذوالنّون مصریؒ بہت حیران ہوئے کہ نامعلوم احمد بن اسکافؒ کی کون سی ادا اللہ تعالیٰ کو بھا گئی ہے جو اس پر اس قدر فضل و کرم کیا گیا ہے۔

حج سے فارغ ہو کر وہ سیدھے دمشق گئے اور احمد بن اسکافؒ سے ملاقات کر کے ان سے حج پر نہ جانے کا سبب دریافت کیا۔

انہوں نے واقعہ بیان کیا تو ذوالنّونؒ نے فرمایا کہ مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارا حج قبول فرما لیا، بلکہ حجِ اکبر کا ثواب عطا فرمایا۔ احمد بن اسکافؒ یہ سن کر رونے لگے اور بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے۔ اگلے سال اللہ نے انہیں اس قدر مال دیا کہ خود فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے تشریف لے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں