اسلامی تعمیرات کی اصطلاح روز استعمال ہوتی ہے، مگر ایک عجیب بات ہے کہ ہندوستان سے لے کر اسپین تک اسلامی عمارتوں کو دیکھ جائیے، تعمیر کا کوئی ایک انداز نظر نہیں آئے گا، کہیں قبطی اثرات ہیں، کہیں رومی، کہیں یونانی، کہیں بازنطینی، کہیں ایرانی، کہیں ہندوستانی۔ خود ہندوستان ہی میں اسلامی عمارتوں کے مختلف انداز دکھائی دیں گے۔
شمال کی مغل عمارتوں میں ایرانی اثرات زیادہ ہیں تو کاٹھیاواڑ کی عمارتوں میں ہندو عناصر کا پلّہ بھاری۔ جس طرح ہم ایک خاص قسم کے ستونوں اور خاص قسم کے دروازوں کی عمارت کو یونانی یا رومی کہتے ہیں، ان معنوں میں اسلامی تعمیرات کا وجود نہیں۔ اسلامی تعمیرات چند خاص اوضاع یا اشکال کا نام نہیں بلکہ اس تصویر یا اس روح کا نام ہے جو ان شکلوں کے پیچھے کار فرما ہے۔
اسلامی تعمیرات کی اس روح میں جو سب سے عجیب خصوصیت ہے وہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ یعنی اس روح نے ذرا بھی تعصب سے کام نہیں لیا اور جس قوم کے فنِ تعمیر میں جو عنصر پسند آیا ہے، بے کھٹکے لے لیا۔ اسلام نے بتایا تھا کہ علم اور کلچر مسلمان کی ملکیت ہے، چین میں بھی ملتا ہو تو جا کے لے آؤ۔ اسلامی تعمیرات کے ماہروں نے اس پر حرف بحرف عمل کیا اور کوئی ایسا بڑا کلچر نہیں رہا جس کے فنِ تعمیر سے مسلمانوں نے فائدہ نہ اٹھایا ہو۔ بازنطینی عمارتوں سے مینار لی تو ہندوستان سے گنبد لیا۔ یہاں تک کہ ہندوستان کی مخصوص علامت کنول کو مسجد کے گنبد کے اوپر جگہ دی۔ ہندوستانی معماروں کو لے جا کے دمشق کی مسجد بنوائی۔ ہندوستان میں عمارتیں بنوانے کے لئے یورپ سے فن کاروں کو بلا کے مشورہ لیا۔ غرضیکہ اسلام نے انسانیت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تعمیرات کے معاملے میں شعوری طور پر بین الاقوامیت برتی اور ہر قسم کی قومی اور نسلی تنگ نظری سے الگ ہو کر فن کو فن کی حیثیت سے دیکھا، اور ہر کلچر سے کچھ نہ کچھ اخذ کیا۔ یعنی اس معاملے میں بھی اسلام نے دکھا دیا کہ اسلامی تہذیب جغرافیائی حد بندیوں سے اور مذہب و ملّت کا لحاظ کیے بغیر ساری قوموں کے ورثے کو انسانیت کا ورثہ، اپنا ورثہ سمجھتی ہے۔
اسلامی تعمیرات کی یہ تجرباتیت اور انتخابیت ایسی نادر چیز ہے کہ اس کی مثال بڑی مشکل سے ملے گی۔ اسلامی تعمیرات سے مراد یا تو مسجدیں اور مقبرے ہیں یا شاہی محل مگر فنی اور تاریخی اعتبار سے جو اہمیت مذہبی عمارتوں کو حاصل ہے وہ دنیاوی عمارتوں کو حاصل نہیں۔ وہ تو خیر یورپ کی نئی تہذیب کو چھوڑ کر ہر تہذیب میں ہی معابد کو ایک خاص مقام حاصل ہے، مگر اسلامی تعمیرات کا تو نام آتے ہی مسجدوں کا تصور سامنے آتا ہے۔ مسجدوں پر اتنی توجہ اس لئے صرف کی گئی ہے کہ یہ ہماری قوم کی عمیق ترین زندگی کی ترجمان ہیں، ہماری زندگی کا خلاصہ ان مسجدوں کے طرز تعمیر میں نظر آتا ہے۔ مسجد پر پہلی نظر ڈالتے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ جگہ اس لئے بنائی گئی ہے کہ یہاں زیادہ سے زیادہ آدمی جمع ہوسکیں۔ الگ الگ نہیں بلکہ ایک ساتھ۔ اسلامی تہذیب میں اجتماعیت پر جو زور دیا گیا ہے اس کی پوری غمازی ہماری مسجدیں کرتی ہیں۔ دوسرے مذہبوں کے معابد پر غور کیجیے تو دیکھیں گے کہ عمارت میں پراسرار ما حول پیدا کرنے کی بڑی کوشش کی گئی ہے۔ کہیں بالکل اندھیرا ہے تو کہیں سورج کی روشنی کو رنگے ہوئے شیشوں میں سے گزارا گیا ہے تاکہ دماغ پر ایک مخصوص قسم کی اجنبیت اور ہیبت طاری ہوسکے۔ اسلامی عمارتوں میں اس قسم کی بازی گری مطلق روا نہیں رکھی گئی۔ مسجد کی سب سے اہم چیز صحن ہے جس میں زیادہ سے زیادہ روشنی اور ہوا آتی ہے۔ بات یہ ہے کہ خود اسلام کا سارا فلسفہ زندگی ہی ابہام پرستی اور رمزیت سے کوسوں دور ہے۔ اسلام انسانی ذہن کو علم اور کلچر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منور کرنا چاہتا ہے۔ اسی آدرش کی علامت ہماری مسجدیں ہیں۔
مسجدوں کے زیرِ اثر دوسری اسلامی عمارتوں میں بھی یہ خصوصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہاں ہوا اور روشنی پر کم سے کم پابندی لگائی جاتی ہے۔
پھر اسلامی عمارتوں کے نقشے بڑے سیدھے سادے ہوتے ہیں۔ اسلامی عمارتیں ہندو یا گوتھک عمارتوں کی طرح بھول بھلیاں نہیں ہوتیں۔ یہاں عمارت ساز بنیادی نقشے سے انحراف نہیں کرتا۔ ہندو عمارتوں کو دیکھ کہ یہ احساس ہوتا ہے کہ بنانے والے کو بیچ میں کوئی بات سوجھ آگئی اور وہ کر گزرا۔ مگر اسلامی عمارتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جیسے ذرا ذرا سی تفصیل پہلے سے سوچی ہوئی ہو۔ اسلامی عمارت ساز وقتی جذبات یا اثرات کی پیروی نہیں کرتا بلکہ ایک عقلی اور اقلیدسی نقشے کی۔ بعض لوگوں کو یہ اقلیدسی زنجیر بہت گراں گزرتی ہے۔ خصوصاً یورپ کی بنجر عقلیت پرستی سے اکتائے ہوئے دماغوں کو۔ مثلاً یہ لوگ تاج محل کو دیکھ کر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اس عمارت کو بیچ میں سے کاٹ کر ایک حصہ اٹھا لیا جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ کیوں کہ دونوں حصے بالکل ایک سے ہیں، اور دوسرے حصے میں کوئی نادر بات ہے ہی نہیں۔ مگر یہ اعتراض بڑا غیر تاریخی اور نامنصفانہ ہے۔ جس تہذیب نے کوئی فن پارہ پیش کیا ہے اس کی روح کو سمجھے بغیر اعتراض جائز نہیں۔ اسلام صرف فلسفیوں اور صوفیوں کا مذہب نہیں ہے بلکہ عام انسانوں کا مذہب ہے۔ اسلام کی بنیاد مبہم جذبات اور نادر تجربات پر نہیں بلکہ تمام انسانوں کے ذو اضعافِ اقلِ مشترک یعنی عقل پر ہے۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ اتنا صاف، سچا، بے میل اور غیر مبہم ہے کہ عام آدمی کی بھی سمجھ میں آسکتا ہے ۔ اسی لئے اسلامی فنونِ لطیفہ میں بھی جذبات پر عقل کو فوقیت حاصل رہی ہے۔ وہی شرط اسلامی عمارتوں کے نقشوں میں بھی ملحوظ رہی ہے۔ منطقی یا اقلیدسی کیفیت کسی ذہنی اور روحانی لاچاری یا بے مائگی کا نتیجہ نہیں بلکہ زندگی کے ایک بنیادی تصور سے متعلق ہے۔
اسلامی تعمیرات پر توحید کے عقیدے نے بھی بڑا گہرا اور زبردست اثر ڈالا ہے۔ اسلامی عقیدے میں خدا، انسان اور فطرت دونوں سے بلند تر ہستی ہے۔ اس کا وجود ایسا مطلق و مجرد اور غیر مرئی ہے کہ کسی مادّی چیز سے اس کی مماثلت ممکن ہی نہیں۔ خدا کا عرفان حیات اور جذبات کے ذریعے ممکن نہیں کیوں کہ یہ دونوں قوتیں تو مادّی لوازمات کے ذریعے عمل کرتی ہیں۔ البتہ افلاطون والی عقل محض کی تھوڑی سی پہنچ خدا تک ہے۔ چنانچہ فنونِ لطیفہ کے ذریعے خدا کو ڈھونڈنے کے لئے (کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی تلاش کا مرکز خدا ہی ہونا چاہیے) ہمیں حسیات اور جذبات کی نہیں بلکہ عقلِ محض کی پیروی کرنی ہوگی۔ اس اصول کے مطابق اسلامی عمارتوں کے نقشے منطق کے لحاظ سے بنائے گئے۔ اسی بنیادی اصول کا دوسرا اثر یہ ہوا کہ اسلامی تعمیرات نے اپنی اوضاع و اشکال میں ہمیشہ فطرت سے آزاد ہونے کی کوشش کی۔ دنیا کی اکثر بڑی بڑی تہذیبوں کے فنِ تعمیرات کی یہی جدوجہد رہی ہے کہ عمارت ایسی معلوم ہو جیسے اوپر سے لا کے رکھی گئی ہے بلکہ یہ معلوم ہو جیسے زمین میں سے خود بخود ابھر آئی ہے۔ عمارت کا ڈھانچہ اور عمارت کے خطوط فطری منظر کے خطوط کے خلاف نہ ہوں۔ بلکہ اس درجے ہم آہنگ ہوں کہ عمارت منظر میں مدغم ہو کے رہ جائے۔ چنانچہ جنوبی ہند کا کوئی ہندو مندر دیکھیے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی آم کے پیٹروں کا جھنڈ ہو۔ مندر کے سارے پیچ و خم اور نشیب و فراز وہی ہوں گے جو آموں کے جھنڈ کے ہوتے ہیں۔ اسلامی فنِ تعمیر اس کے بالکل بر خلاف ہے۔ اسلامی عمارت فطرت پر انسان کی فوقیت کا اعلان کرتی ہے۔ اسلامی معمار فطرت کا کہنا نہیں مانتا چلا جاتا۔ وہ فطرت کی اصلاح کر ا چاہتا ہے ۔ فطرت کے خطوط کی مدد لئے بغیر اپنے دماغ سے، ایک نئے ڈھانچے ایک نئے نقشے کی تخلیق کرتا ہے۔ ہندو فنِ تعمیر میں انسان نظر سے اوپر اٹھنے، فطرت پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلامی فنِ تعمیر انسان کو ایک نئی جرأت، ایک نئی امنگ، ایک نئی خود اعتمادی سکھاتا ہے۔ اسلامی فنِ تعمیر زبانِ حال سے یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان محض اپنی طاقت کے بل بوتے پر آسمانوں کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ انسانی روح فطرت کی رعنائیوں سے استفادہ کئے بغیر بذاتِ خود حسین اور رفیع ہے۔ یوں اسلامی فن تعمیر نے فطرت کی نقالی بھی بڑی عمدگی سے کی ہے۔ مثلاً مسجدِ قرطبہ کے ستون دنیا بھر کی عمارتوں میں بڑے معرکے کی چیز سمجھے جاتے ہیں۔ ان ستونوں کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے گویا صحرا میں کھجور کے درخت کھڑے ہیں۔ مگر فطرت کی تابعداری تو کیا فطرت کی نقالی تک کبھی اسلامی تعمیر کا بنیادی اصول نہیں بنا۔ اسلامی عمارت دور سے بھی فطرت سے بالکل الگ تھلگ کھڑی دکھائی دیتی ہے اور اپنے آپ کو فطرت میں مدغم نہیں ہونے دیتی۔
اسلام سے پہلے کی بہت سی تہذیبوں میں معبود عموماً فطری قوتیں ہوا کرتی تھیں، اسی لئے وہ اپنی عمارتوں میں بھی فطرت کی ہم آہنگی اور فطرت سے مفاہمت ڈھونڈتے تھے، لیکن اسلام کا خدا ساری فطرت کا خالق ہے، اس کے پرستار کو فطرت کی خوشامد یا فطرت سے مفاہمت کی ضرورت نہیں رہتی۔ فطرت سے یہی علیحدگی اور بے نیازی سارے اسلامی فن تعمیر میں جھلکتی ہے۔ ہندوستان میں تو خیر مسلمانوں پر ایرانیوں اور ہندوؤں کا اثر پڑ چکا تھا، اس لئے عام گھروں اور بستیوں میں یہ عنصر اتنا نمایاں نہیں دکھائی دیتا۔ مگر اسپین کی زندگی پر عربوں کا اثر اتنا گہرا پڑا ہے کہ عرب سلطنت کو ختم ہوئے بھی صدیاں گزر گئیں مگر عربوں کی نشانیاں قدم قدم پھیلی ہیں۔ اسپین کی معمولی معمولی بستیاں تک اس انداز سے بنائی گئی ہیں کہ ان کا ہر خط اور ہر وضع فطرت کے مقابل صف آرا ہے۔ انسان اور فطرت کا یہ تقابل صرف اسلامی تعمیرات ہی میں نہیں بلکہ دوسرے اسلامی فنونِ لطیفہ میں بھی کارفرما ہے۔ انسان اور فطرت کے تضاد کو انیسویں صدی کی ادبی تنقید اور جذباتی فلسفے نے بہت بدنام کیا ہے مگر بیسیویں صدی میں اس پر شرمانے کی زیادہ ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیوں کہ بیسویں صدی کی سب سے نمایاں فنی چیز یعنی اقلیدسی مصوری اسی تضاد کی ترجمان ہے۔ پھر یہ اقلیدسی مصوری براہِ راست اسلامی اثرات کا نتیجہ ہے کیوں کہ یہ صنف خصوصیت کے ساتھ اسپینی مصوروں کی ایجاد ہے اور اسپینی لوگوں کی روزمرہ زندگی ہی اقلیدسی مکانوں اور اقلیدسی بستیوں میں گزرتی ہے۔ پھر اسپین کی عرب عمارتوں میں دیواروں کے اوپر عربی تحریریں ہیں جو خالص یا اقلیدسی مصوری کے بہترین نمونے ہیں۔
فی الجملہ اسلامی تعمیرات کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ انسان کی ایک علیحدہ اور مستقل ہستی ہے جو نظرت کو سیڑھی بنا کر اپنے دماغ اور اپنی روح کی ہمّت سے خدا کی طرف بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔
(ممتاز ادیب اور نقاد محمد حسن عسکری کا مضمون)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


