The news is by your side.

Advertisement

پروفیسرطارق رمضان کےایک اور خاتون سے تعلقات سامنے آگئے

پیرس : مسلمان پروفیسراور فلاسفرطارق رمضان نے2015 میں ایک مسلمان خاتون کودونوں کےتعلقات پوشیدہ رکھنے کےعوض 27 ہزار یورو کی خطیر رقم ادا کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق دو خواتین کے ساتھ عصمت دری اور جنسی ہراسگی کے الزام میں گرفتار مسلمان پروفیسر اور فلاسفر طارق رمضان کے متعلق ایک اور انکشاف ہوا جس میں انہوں نے 2015 میں ایک مسلمان خاتون کو اپنے ان کے درمیان تعلقات کو راز میں رکھنے کے لیے بھاری رقم کی ادائیگی کی گئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پروفیسر طارق رمضان جو اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کے نواسے بھی ہیں کے خلاف 2016 میں ہینڈا یاری نامی خاتون نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اس کے علاوہ 2009 میں بھی اسی قسم کی ایک اور شکایت سامنے آئی تھی۔

علاوہ ازیں چار سوئس خواتین نے بھی جنیوا میں دوران تعلیم پروفیسر طارق رمضان پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد فرانس کی عدالت نے پروفیسر طارق رمضان کو الزامات ثابت ہونے پرسزا سنائی گئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیلجیئم کی مقامی عدالت کے جج نے موقف اختیار کیا ہے کہ بیلجیئم کی رہائشی مراکشی نژاد مسلمان خاتون کو 55 سالہ پروفیسر طارق رمضان نے 27 ہزار یورو کی خطیر رقم ادا کی تھی تاکہ وہ پروفیسر اور اپنے تعلق کو سوشل میڈیا پر عام نہ کرے۔

بیلجیئم کی عدالت کے جج بینارٹ کے مطابق برسلز میں پروفسیر اور ماجدہ برنوسی نامی خاتون کے معاہدہ طے ہوا جس کے تحت خاتون مذکورہ رقم کی اداگئی کے بعد دونوں کے تعلق کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لگائی گئی تمام پوسٹیں ہٹائے گی اور آئندہ کوئی پوسٹ نہیں کرے گی اور نہ ہی انہیں یا ان کے اہل خانہ کو دھمکی آمیز اور جارحانہ پیغامات ارسال کرے گی۔


مزید پڑھیں: پیرس،معروف اسلامی اسکالر پروفیسرطارق رمضان زیادتی کےالزام میں گرفتار



اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں