اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

عید کا چاند روایتی کے بجائے سائنس وٹیکنالوجی کی مدد سے دیکھنا درست ہے یا نہیں؟ علما کی رائے

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (19 مارچ 2026): عید کا چاند روایتی طریقے کے بجائے سائنس وٹیکنالوجی کی مدد سے دیکھنا درست ہے یا نہیں علما نے اپنی رائے ظاہر کر دی۔

دنیا بھر کے مسلمان عیدالفطر کا تہوار منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں، رویت کے مطابق کچھ ممالک میں کل جب کہ دیگر ممالک میں ہفتے کو عید منائی جانے گی۔

اسلامی مہینوں کا آغاز چاند کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، تاہم رمضان اور عید کے چاند پر اکثر تنازعات سامنے آتے ہیں جب کہ اب ترقی یافتہ دور میں روایتی رویت (اپنی آنکھوں سے چاند دیکھنا) کے ساتھ کئی ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چاند کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شان رمضان میں آسٹریلیا سے ایک خاتون سے سوال کیا کہ ان کے ہاں دو باڈیز ہیں، ایک روایتی طریقے سے چاند دیکھ کر اور دوسری سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر عید کا فیصلہ کرتی ہے، تو اس میں کون سے طریقہ درست ہے۔

مفتی اکمل قادری نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سائنس وٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا بالکل منع نہیں، کرنا چاہیے، لیکن اس طرح استفادہ کرنا جس سے نبی کریم ﷺ کی حدیث کا باطل ہونا لازم ہو جائے یہ درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی اور مغربی ممالک میں عموماً دو طریقوں سے عید کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک کلینڈر سعودی سے اور دوسرے چاند دیکھ کر (جو سنت کے قریب ہے) عید کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم اگر رویت کا اہتمام چھوڑ کر صرف کلینڈر کی بنیاد پر رمضان اور عید کا فیصلہ کریں گے تو اس میں ابطال نسق لازم آئے گا اور یہ قطعی نا مناسب ہے۔

شیعہ عالم دین نے کہا کہ درست طریقہ رویت ہی ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی سے اتنا استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر چاند نظر نہیں آ رہا تو سائنسی پیشگوئی پر اس جگہ سے رویت کریں جہاں چاند نظر آنے کا امکان ہو۔

پاکستان میں آج عید کا چاند نظر آئے گا؟ سپارکو کی نئی پیشگوئی

دونوں علما کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر رویت کمیٹی کو چاند نظر نہ آیا ہو اور کسی نے اپنی آنکھ سے چاند دیکھا ہو تو وہ اس پر یقین کرتے ہوئے عید منا سکتا ہے۔

 

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں