The news is by your side.

Advertisement

گُل جی، سیماب صفت آرٹسٹ، جسے دستِ قاتل نے ہم سے چھین لیا!

رنگ اداس، مُو قلم نڈھال اور کینوس افسردہ ہے۔ آج گُل جی کی برسی ہے۔

چاہنے والوں نے خانۂ دل میں اس باکمال مصور کی بہت سی تصویریں سجالی ہیں جو اپنی پینٹگز سے آرٹ گیلریاں سجایا کرتا تھا اور آرٹ کے قدر دانوں، مصوری کے شائقین سے اپنے فن کی داد پاتا تھا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور اسماعیل گل جی 16 دسمبر 2017 کو ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے تھے۔

پشاور کے امین اسماعیل کا سنِ پیدائش 1926 ہے، جسے دنیا بھر میں گُل جی کے نام سے شہرت ملی۔ لارنس کالج، مری کے بعد سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے علی گڑھ یونیورسٹی بھیجے گئے اور بعد میں اسی شعبے میں اعلیٰ تعلیم امریکا سے مکمل کی۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی اور ہارورڈ میں زیرِ تعلیم رہے۔

گل جی نے پیشہ ورانہ سفر میں تجریدی آرٹ اور اسلامی خطاطی کے حوالے سے دنیا بھر میں شناخت بنائی اور شہرت حاصل کی۔ امریکا میں حصولِ تعلیم کے دوران مصوری کا آغاز کیا۔ گل جی کی تصاویر کی نمائش پہلی بار 1950 میں ہوئی۔ اگلے دس برسوں میں انھوں نے تجریدی مصور کی حیثیت سے پہچان بنانا شروع کی اور خاص طور پر اسلامی خطاطی کے میدان میں تخلیقات سامنے لائے۔

اسلامی خطاطی کے نمونوں نے انھیں اپنے ہم عصر آرٹسٹوں میں ممتاز کیا۔ تاہم تجریدی اور تصویری فن پاروں کے ساتھ ان کا کام مختلف رجحانات کے زیرِ اثر رہا اور یہی وجہ ہے کہ آئل پینٹ کے ساتھ انھوں نے اپنے فن پاروں میں غیر روایتی اشیا سے بھی مدد لی ہے۔ گل جی کے فن پاروں میں شیشہ، سونے اور چاندی کے ورق بھی استعمال ہوئے ہیں جو ان کے کمال اور اسلوب کا نمونہ ہیں۔

گل جی نے پورٹریٹ بھی بنائے جن میں کئی اہم اور نام ور شخصیات کے پورٹریٹ شامل ہیں۔ تجریدی مصورری اور امپریشن کے ساتھ انھوں نے مجسمہ سازی میں بھی منفرد کام کیا۔ فائن آرٹ کی دنیا میں انھیں ہمہ جہت آرٹسٹ کہا جاتا ہے جس نے اپنے فن کو روایت اور ندرت کے امتزاج سے آراستہ کیا۔

گل جی جیسے سیماب صفت آرٹسٹ کو طبعی موت نصیب نہ ہوئی۔ انھیں کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کردیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں