اتوار, فروری 15, 2026
اشتہار

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، بلوچستان میں بد امنی پھیلانے میں ملوث

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (11 جنوری 2026): بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ امیج پراکسی کا منظم نیٹ ورک اور بلوچستان میں بد امنی پھیلانے میں ملوث ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوصی فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے، جو پراکسی کا منظم نیٹ ورک ہیں۔

بی وائی سی فتنہ الہندوستان کیلیے بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا بی وائی سی سے متعلق یہ موقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔ بی وائی کے حوالے سے موقف کی توثیق اب سیکیورٹی اداروں کی جانب سے پیش شواہد سے بھی ہو چکی ہے۔

گزشتہ سال مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس واقعہ کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے متنبہ کیا تھا۔ بلوچستان میں دہشتگردی، دہشتگردوں کی سپورٹ کیلیے پراکسیز کے ذریعے پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے۔ بی وائی سی نے ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں اسپتالوں سے ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں زبردستی لینے کی کوشش کی۔ اس واقعے کو ذرائع ابلاغ نے بھی رپورٹ کر کے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کو مجرمانہ کوشش قرار دیا۔

دہشتگردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر لاپتہ افراد کے بیانیے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی ہلاکتوں پرحقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے۔

23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی، اس کی قیادت کے مبینہ دہشتگرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولت کار کا کام کرنے جا رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو منظم انداز میں بطور ہتھیاراستعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں سی ٹی ڈی، پولیس ودیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتارکیا۔ ڈی آئی جی اعزاز گورائیہ نے اس حوالے سے بتایا کہ ساجد احمد بیک وقت دہشتگرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری میں ملوث تھا اور اس نے گرفتاری کے بعد اعترافی بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی سے اپنے روابط کا اعتراف بھی کیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ساجد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہے، جو سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں بطور لیکچرار تعینات رہا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید تین سہولت کاروں کی گرفتاری کی تصدیق بھی کی اور بتایا کہ سہولت کاری یا دہشت گردی میں ملوث ہر فرد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے تعلق سامنے آیا۔ سہولت کاروں میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرفراز کو سب سے پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ اس نے تنظیم کے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں سرگرم کردار ادا کیا۔ سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان (عمر 20 سال) نے بھرتی کیا تھا۔

ڈی آئی جی اعزاز گورائیہ نے مزید بتایا کہ جہانزیب مہربان نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا تھا، جس کا بھائی شفقت یار خوکوچہ میں لیویز فورس پر حملے کے دوران مارا گیا تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ فتنہ الہندوستان بارہا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کو استعمال نہیں کرتا، تاہم شواہد اس کے برعکس ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو نا بالغوں کی ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں دہشتگردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ان مراکز میں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔

 

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں