The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، پاک فوج کے جوان ملک بھر سول انتظامیہ کی معاونت کررہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے کہا ہے کہ وفاق وصوبائی انتظامیہ کرونا وائرس سے عوام کے تحفظ میں مصروف ہے اور  پاک فوج کے جوان  سول انتظامیہ کی معاونت کررہےہیں۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری ہونے والے اعلامیے ڈائریکٹر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے مختلف داخلی و خارجی راستوں اور چاروں بین الاقوامی سرحدوں پر نقل وحرکت کی نگرانی کی جارہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پنجاب کے34اضلاع میں مشترکہ چیک پوسٹیں اورپٹرولنگ کی جارہی ہے جبکہ سندھ کے 29 اضلاع میں بھی تمام داخلی اورخارجی مراکز کی نگرانی جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں 182 قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے، آزادکشمیر کے علاقوں کوٹلی، بھمبر، میرپور، مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، کیل اور برنالہ میں فوجی جوان تعینات ہیں۔

مزید پڑھیں: آئندہ ہفتے 400 وینٹی لیٹرز پاکستان پہنچ جائیں گے، چیئرمین این ڈی ایم اے

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا بلوچستان کے علاقے تفتان میں600 افرادکیلئےقرنطینہ مرکز قائم کیاگیاہے، اسی طرح چمن میں805خیموں پرمشتمل قرنطینہ مرکز قائم کیاگیا، چمن کےگاؤں کلی فیضو میں300افرادکیلئےکنٹینر کو قرنطینہ بنایا گیا جبکہ لنڈی کوتل میں1500افرادکیلئےقرنطینہ مرکزقائم کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق  لاہورایکسپو سینٹر،فیصل آباد، ملتان اور کراچی ایکسپو سینٹر میں قائم ہونے والے قرنطینہ مراکز میں فوجی جوان سول انتظامیہ کو معاونت فراہم کررہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں قرنطینہ مراکز قائم کیےگئےہیں، پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے خنجراب پاس سے چین سےدرآمد ہونے والے 5 وینٹی لیٹر، ماسک، میڈیکل اورٹیسٹنگ کٹس سمیت دیگر طبی آلات کی منتقلی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک ہزار 408 ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے 9 اضلاع آوران، چاغی، لسبیلہ، قلات، گوادر، سبی، خضدار، نوشکی کےعلاقوں میں فوجی جوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخواہ کے 26اضلاع میں پاک فوج کےجوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق پاک فوج کی جانب سے 4 ہزار مشتبہ کیسزکی اسیریننگ کی گئی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں