The news is by your side.

Advertisement

یورپ اسرائیل مخلاف مہم چلانے والی این جی اوز کی مالی معاونت بند کرے، اسرائیل

تل ابیب : اسرائیلی حکومت نے یورپی یونین پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اسرائیلی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ مہم چلانے والی این جی اوز اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنا بند کرے۔

تفصیلات کے مطابق غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت نے یورپی یونین پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل کے خلاف مہم چلانے والی غیر سرکاری این جی اوز کی معاونت کرنا مدد کرے۔

اسرائیل کی وزارت برائے اسٹریٹیجک افیئرز کا ایک رپورٹ میں کہنا تھا کہ یورپی یونین دہشت گردی کے حوالے سے بنائی گئی پالیسیوں کی خود خلاف ورزی کررہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزارت اسٹریٹیجک افیئرز نے جمعے کے روز اپنی رپورٹ شائع کی جس میں ان این جی اوز کی فہرست بھی شامل تھی جن کو یورپ سے فنڈ کی صورت میں رقم وصول ہوتی ہے۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا تھا کہ رقم وصول کرنے والی این جی اوز اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلاتی ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ مذکورہ این جی اوز کا تعلق دہشت گرد تتنظیموں سے ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کو توقع کررہی ہے کہ یورپی یونین مکمل شفافیت کے ساتھ اقدامات کرتے ہوئے واضح کرے گا کہ یورپ کس حد تک ان تنظیموں کی مالی معاونت کررہا ہے جو اسرائیل کے خلاف دہشت گردی اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ میں ملوث ہیں۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطالعے سے مزید تشویش بڑھ گئی ہے کہ یورپ کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ اسرائیل کے خلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کے لیے صرف کیا جارہا ہے۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ان این جی اوز اور تنظیموں کی مالی معاونت کرنا بند کرے جو اسرائیلی مصنوعات کے خلاف مسلسل بائیکاٹ مہم چلا رہی ہیں۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ سنہ 2016 میں یورپی یونین کی جانب سے 50 کروڑ یورو کے فنڈز جن این جی اوز اورتنظیموں کو موصول ہوئے تھے ان کی فہرست بھی اسرائیل کے پاس موجود ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی چیز موصول نہیں ہوئی ہے اور یورپ پر اعتماد ہے کہ ’یورپی یونین کسی بھی ایسی تنظیم یا این جی اوز کو مالی معاونت فراہم نہیں کررہا‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں