The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی قبضہ، فلسطینی اکثریتی علاقے میں یہودیوں کے لیے 6 ہزار گھروں کی تعمیرات

غزہ: اسرائیل فلسطین پر مکمل طور پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے یہودی آباد کاری کے منصوبے پر گامزن ہے، فلسطینی اکثریتی علاقے میں یہودیوں کے لیے 6 ہزار نئے گھروں کی تعمیرات کی منظوری دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ اور فلسطینی اکثریتی علاقے ویسٹ بینک میں چھ ہزار گھروں کی تعمیرات کے بعد یہودیوں کو بسایا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئیں ہیں کہ جب امریکی نمائندہ خصوصی جیرٹ کشنر نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیل فلسطین امن عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکا نمائندے جیرٹ کشنر کے دورہ اسرائیل کے موقع پر غزہ کی تازہ صورت حال پر اسرائیلی حکام سے گفتگو ہوئی جبکہ جیرٹ نے اس موقع پر وائٹ ہاؤس کا امن عمل سے متعلق لائحہ عمل بھی پیش کیا۔

فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیلی اقدام کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی آباد کاری اسرائیل فلسطین امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اس سے قبل 2016 میں بھی اسرائیل نے اسی قسم کے منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کی تھی جس پر عالمی رہنماؤں اور فلسطین حمایتی تنظیموں نے مخالفت کرکے اس منصوبے کو رکوا دیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ یہودی آبادی کاری کو جس قدر فروغ ان کے دور حکومت میں دیا گیا ہے اتنا پہلے کبھی کسی حکومت نے نہیں کیا۔

یاد رہے کہ 2017 کے ایک اعداد وشمار کے مطابق مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں آباد قریب 30 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ چھ لاکھ سے زائد اسرائیلی ان مقبوضہ علاقوں میں قائم کی گئی یہودی بستیوں میں آباد ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں