اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کوپھانسی دینے کی سزا کی قرارداد منظورIsrael
The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کوپھانسی دینے کی سزا کی قرارداد منظور

یروشلم : اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو پھانسی کی سزا دینے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو پھانسی دینےکی سزا کی قرارداد منظور کرلی گئی ، قرارداد کے حق میں52 اور مخالف میں 49 ووٹ ڈالے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پھانسی کے قانون سےجرائم روکنےمیں مدد ملے گی۔

بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ سال جولائی میں حملے میں تین یہودیوں کی ہلاکت کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا کہ میں نے زندگی میں انتہائی دھچکہ خیز مناظر دیکھے ہیں لیکن اس واقعے سے مجھے شدید صدمہ ہوا ہے انسان خوفناک جرائم کا مرتکب ہوتے ہیں اور انھیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع لیبر مین نے فلسطینیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پارٹی اسرائیل بیٹا پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کی قرار داد کے حق میں ووٹ دے گی۔


مزید پڑھیں : اسرائیلی فوجیوں کےآگ ڈٹ جانےوالی فلسطینی لڑکی پرفرد جرم عائد


اسرائیل کی سول عدالتوں میں پھانسی کا قانون موجود نہیں ہے جبکہ سنگین ترین حالات میں فوجی عدالتوں میں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے جبکہ اسرائیل کی تاریخ میں ایک بار1962میں نازی مجرم کو پھانسی دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ یہ قانون 2015 میں بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا مگر صہیونی کنیسٹ نے اس پر رائے شماری منسوخ کردی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں