تل ابیب: اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر اسرائیلی کنٹرول مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے اور یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے کئی اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ ان فیصلوں کا مقصد فلسطینی علاقوں میں دہائیوں سے نافذ قانونی اور شہری صورتحال کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ خزانہ اور وزیرِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق درج ذیل اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:
مغربی کنارے میں یہودی شہریوں کے زمین خریدنے پر عائد دہائیوں پرانی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
فلسطینی شہروں میں تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھارٹی سے لے کر براہِ راست اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب ان علاقوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے صرف اسرائیلی منظوری کافی ہوگی۔
اسرائیل اب فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں واقع بعض مذہبی مقامات کا انتظام بھی خود سنبھالے گا۔
وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد ”فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا ” اور اسرائیل کی جڑوں کو مزید گہرا کرنا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے مغربی کنارے کو اسرائیل کا ”دل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں آباد کاروں کو تمام شہری سہولیات کی فراہمی قومی اور صیہونی مفاد میں ہے۔
فلسطینی حکام نے ان فیصلوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی کنارے کے الحاق (Annexation) کی کھلی کوشش قرار دیا ہے۔
لبنان: رہائشی عمارت گرنے سے متعدد ہلاک
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔
اس وقت مغربی کنارے میں تقریباً 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار مقیم ہیں، جبکہ فلسطینیوں کی آبادی 30 لاکھ کے قریب ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


