تل ابیب (11 نومبر 2025): اسرائیلی پارلیمنٹ نے دو متنازع بلوں کی منظوری دے دی ہے، جس سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت اور غیر ملکی میڈیا پر مستقل پابندی کی راہ ہموار ہو گئی۔
ترک میڈیا کے مطابق اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسے) نے دو انتہائی متنازع بلوں کو ابتدائی منظوری دے دی ہے، ایک بل فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی اجازت دیتا ہے، جب کہ دوسرا حکومت کو عدالتی منظوری کے بغیر غیر ملکی میڈیا اداروں کو مستقل طور پر بند کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یہ دونوں بل وزیر اعظم نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں، اور ابتدائی منظوری کے بعد اب انھیں حتمی منظوری سے قبل پارلیمانی کمیٹی میں مزید بحث کے لیے بھیجا گیا ہے۔
سزائے موت کا بل
پہلا بل وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی پارٹی جیوش پاور نے پیش کیا، جس کے مطابق اُن فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی جو اسرائیلی شہریوں کے قتل میں ملوث ہوں، اگر ان کے اقدامات ’’نفرت یا اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے‘‘ سے کیے گئے ہوں۔ یہ بل 120 ارکان میں سے 39 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے ابتدائی طور پر منظور ہوا۔
بدنام زمانہ وزیر بن گویر نے اس نتیجے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ’’تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے ’’وعدہ کیا تھا اور پورا کیا۔‘‘ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تجویز کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون خاص طور پر فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے نسلی امتیاز اور جبر کے نظام کو مزید گہرا کرتا ہے۔
امریکی سینیٹ میں حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کرنے کا بل منظور ہو گیا
پارلیمانی اجلاس کے دوران عرب رکنِ پارلیمنٹ ایمن عودہ اور بن گویر کے درمیان شدید تلخ کلامی بھی ہوئی، جو تقریباً ہاتھاپائی میں بدلنے والی تھی، جس سے کنیسے کے اندر بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو یہ 1962 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب اسرائیل سزائے موت کا نفاذ کرے گا، اس سے قبل صرف نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمن کو پھانسی دی گئی تھی۔
غیر ملکی میڈیا پر پابندی کا بل
اسی روز کنیسے نے ایک دوسرے بل کو بھی آگے بڑھایا، جس کے تحت حکومت کو ’الجزیرہ قانون‘ (Al Jazeera Law) کو مستقل بنانے کا اختیار دیا جائے گا۔ یہ قانون اس وقت حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ان غیر ملکی میڈیا اداروں کو عارضی طور پر بند کر سکے جنھیں ’’اسرائیل کی سلامتی کے لیے نقصان دہ‘‘ سمجھا جائے۔
نیا مجوزہ بل، جو لیخود پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ اریئل کالنر نے پیش کیا، عدالتی نگرانی کو مکمل طور پر ختم کر دے گا اور حکومت کو امن کے دور میں بھی میڈیا ادارے بند کرنے کا اختیار دے گا۔ یہ بل ابتدائی ووٹنگ میں 50 کے مقابلے میں 41 ووٹوں سے منظور ہوا۔
وزیرِ مواصلات شلومو کرہی نے بل کی جلد منظوری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عارضی قانون کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام اظہارِ رائے کی آزادی اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔ یہ قانون سب سے پہلے اپریل 2024 میں اس وقت نافذ کیا گیا جب نیتن یاہو کی حکومت نے غزہ میں جاری نسل کشی پر مبنی جنگ کی رپورٹنگ کے باعث اسرائیل میں الجزیرہ کے دفتر کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بل اسرائیلی قیادت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فوجی کارروائیاں اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں مسلسل جاری ہیں۔


