The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی وزیر دفاع کے گھر سے ایرانی جاسوس گرفتار

یروشلم: اسرائیل کے وزیر دفاع کے کلینر کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی سروسز (شن بیٹ) اور اسرائیلی پولیس نے اس ماہ کے شروع میں وزیر دفاع بنی گنتز کے گھر پر کام کرنے والے ایک اسرائیلی کلینر کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے ایران کے لیے جاسوسی میں مدد کی پیشکش کی تھی۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ 37 سال عمری گورین نے ایک سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے ایران سے وابستہ ایک فرد سے رابطہ کیا تھا، اور وزیر دفاع کے گھر تک رسائی کی روشنی میں مختلف معاملات میں اس کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی۔

عمری گورین گوروچووسکی کو 4 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا، گورین کے خلاف عائد فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس نے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے ایرانی ہیکر گروپ بلیک شیڈو سے رابطہ کیا تھا۔

گورین نے بلیک شیڈو کے آگے خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو وزیر دفاع کے لیے کام کر رہا تھا اور کہا کہ وہ مختلف طریقوں سے گروپ کی مدد کر سکتا ہے۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس نے وزیر دفاع کے کمپیوٹر پر میلویئر انسٹال کرنے کی پیش کش بھی کی، ملزم نے مبینہ طور پر پیسے مانگے اور گروپ کو گنتز کے ذاتی سامان کی تصاویر فراہم کیں۔

فرد جرم کے مطابق گورین نے بلیک شیڈو کو وزیر دفاع کے کمپیوٹر، ایک ڈیسک، ایک فون، ایک ٹیبلٹ، ایک سیف، ایک کاغذات ٹکڑے کرنے والی مشین، IP ایڈریس ظاہر کرنے والے اسٹیکر، اور خاندان کے نجی بل کی تصاویر بھی فراہم کیں۔

گرفتار شخص کے وکیل اٹارنی گیل وولف نے کہا کہ اس کے مؤکل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ “معاشی پریشانی” کی وجہ سے کیا۔ واضح رہے کہ ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والا مذکورہ شخص مختلف جرائم کی وجہ سے چار مرتبہ جیل بھی کاٹ چکا ہے۔

خفیہ ایجنسی کے مطابق گوروچووسکی سیکیورٹی پروٹوکول کی وجہ سے نہ تو کسی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکا ہے اور نہ ہی کوئی سنجیدہ چیز ہیکر گروپ کو فراہم کر سکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں