The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی فورسز نے خاتون صحافی کو جان بوجھ کر گولی ماری: رپورٹ

رام اللہ: فلسطین کے اٹارنی جنرل نے الجزیرہ کی مقتول صحافی شیریں ابو عاقلہ کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی جس میں کہا گیا ہے کہ خاتون صحافی کو اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر گولی مار کر ہلاک کیا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فلسطین کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ الجزیرہ کی مقتول صحافی ابو عاقلہ کو اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر گولی ماری تھی۔

فلسطین کے اٹارنی جنرل اکرم الخطیب نے الجزیرہ کی مقتول صحافی شیریں ابو عاقلہ کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی، رپورٹ میں کہا گیا کہ شیریں ابو عاقلہ کو اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر گولی مار کر ہلاک کیا۔

فلسطینی اٹارنی جنرل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح تھا کہ اسرائیلی قابض فوج میں سے ایک نے ایک گولی چلائی تھی جو صحافی شیریں ابو عاقلہ کو براہ راست اس کے سر میں لگی جب وہ بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ صحافی کو اس وقت گولی کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے ہیلمٹ اور ایسا لباس پہن رکھی تھی جس پر واضح طور پر لفظ پریس لکھا ہوا تھا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قابض افواج کی طرف سے فائرنگ کا واحد مقصد صحافی کو قتل کرنا تھا۔

الخطیب نے کہا کہ ان کی تحقیقات عینی شاہدین کے انٹرویوز، جائے وقوعہ کے معائنے اور فرانزک میڈیکل رپورٹ پر مبنی ہے، جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین اور ساتھیوں نے پہلے کہا تھا کہ ابو عاقلہ کو اسرائیلی فورسز نے ہلاک کیا تھا۔

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ فائرنگ کے مقام کے قریب کوئی فلسطینی جنگجو موجود نہیں تھا، جو اسرائیل کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ گولی فلسطینیوں کی طرف سے آئی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے ابو عاقلہ کو دیگر صحافیوں کے ساتھ دیکھا جن پر واضح طور پر پریس کے ارکان کے طور پر نشان لگایا گیا تھا، ابو عاقلہ کے علاوہ الجزیرہ کے ایک اور صحافی علی سمودی بھی جائے وقوعہ پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔

الخطیب کے مطابق ابو عاقلہ کی موت کے بعد نابلس میں کیے گئے پوسٹ مارٹم اور فرانزک معائنے سے معلوم ہوا کہ انہیں پیچھے سے گولی ماری گئی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ اسرائیلی فورسز صحافیوں کے گروپ پر گولیاں چلا رہی تھیں۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ علی سمودی کو ان کی پشت میں گولی لگی تھی، اسرائیلی قابض افواج نے ان صحافیوں پر اپنا حملہ جاری رکھا جنہوں نے فرار ہونے اور جانے کی کوشش کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں