بیت المقدس (19 فروری 2026): اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ محمد العباسی کو بے دخل کر دیا۔
اسرائیل نے مسجدِ اقصی کے امام کو ایک ہفتہ کے لیے بے دخل کر دیا ہے، اسرائیلی فوج نے فلسطینی امام شیخ محمد العباسی کو بغیر کسی وجہ کے مسجد اقصیٰ سے حراست میں لیا اور بعد میں ان پر مسجد میں داخلے پر پابندی لگا دی۔
اسرائیلی فورس کے نئے چیف نے رمضان کے دوران یہودی آباد کاروں کے داخلے کا وقت بڑھا کر 5 گھنٹہ کر دیا، جب کہ مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔
صرف 10 ہزار نمازیوں کو مغربی کنارے سے مسجدِ اقصی میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور نماز جمعہ کے لیے ہر ایک کے پاس پرمٹ ہونا لازم قرار دیا ہے۔ دیں اثنا خان یونس میں رمضان کے پہلے ہی دن ایک نوجوان کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔
سینئر امام شیخ محمد العباسی نے منگل کے روز کہا کہ مجھے ایک ہفتے کے لیے مسجد سے روک دیا گیا ہے اور حکم کی تجدید کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں پابندی کی وجہ سے آگاہ نہیں کیا گیا، جو پیر سے نافذ العمل ہے۔
انھوں نے کہا ’’میں صرف ایک ماہ قبل ہی ایک سنگین کار حادثے کے بعد اسپتال میں ایک سال گزار کر الاقصیٰ واپس آیا تھا، یہ پابندی ہمارے لیے ایک سنگین معاملہ ہے کیوں کہ ہماری روح الاقصیٰ سے جڑی ہوئی ہے، الاقصیٰ ہماری زندگی ہے۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


