منگل, فروری 10, 2026
اشتہار

اسرائیل کو ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے پر حماس کے باضابطہ جواب کا انتظار

اشتہار

حیرت انگیز

تل ابیب (3 اکتوبر 2025): اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے پر حماس کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے رواں ہفتے دورہ امریکا کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کو قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ حماس کا جواب کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مصر، قطر اور ترکیہ کی حماس کو امریکی پلان پر قائل کرنے کی کوششیں

دوسری جانب، حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے سعودی اشرق چینل کو بتایا کہ مزاحمتی تنظیم نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے پر غور و خوض کیلیے مزید وقت درکار ہے۔

اس دوران نیتن یاہو کے دفتر نے بیان دیا کہ غزہ میں فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اسرائیل نے غزہ کو نہیں چھوڑا اور اپنے منصوبوں پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

غزہ امن منصوبے کے اہم نکات:

  • غزہ کی تعمیر نو اس کے عوام کے فائدے کیلیے کی جائے گی جو جنگ کے دوران کافی تکالیف اٹھا چکے ہیں۔
  • اگر دونوں فریق اس تجویز پر متفق ہو جاتے ہیں تو جنگ فوری طور پر ختم ہو جائے گی، اسرائیلی فوج یرغمالیوں کی رہائی کیلیے متفقہ لائن تک غزہ سے نکل جائے گی، اس دوران تمام فوجی کارروائیاں معطل رہیں گی۔
  • فریقین کی جانب سے معاہدے کو قبول کرنے کے 72 گھنٹوں کے اندر تمام اسرائیلی یرغمالی (زندہ اور مردہ) واپس کر دیے جائیں گے۔
  • اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 عمر قید کے قیدیوں سمیت 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے 1,700 فلسطینیوں کو رہا کرے گا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
  • تمام یرغمالیوں کی واپسی کے بعد حماس کے وہ ارکان جو پرامن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے ہتھیاروں ڈالنے کا عہد کریں گے انہیں معافی دی جائے گی، اگر وہ غزہ چھوڑنا چاہیں گے تو انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
  • اس معاہدے کی منظوری پر غزہ کی پٹی میں فوری طور پر مکمل امداد بھیجی جائے گی۔
  • غزہ پٹی میں امداد کی تقسیم اور داخلے میں دونوں فریقوں کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہوگی، یہ اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں، ریڈ کریسنٹ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے ہوگا جو کسی بھی فریق سے وابستہ نہیں ہیں۔
  • غزہ کو ایک عارضی عبوری فلسطینی ٹیکنوکریٹک اور غیر سیاسی کمیٹی کے تحت چلایا جائے گا جو غزہ کے عوام کیلیے روزمرہ کی خدمات اور انتظامات کی ذمہ دار ہوگی۔
  • کمیٹی میں اہل فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں گے جن کی نگرانی نئے بین الاقوامی عبوری ادارے ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے ہوگی جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے اور دیگر ارکان اور سربراہان مملکت کا اعلان کیا جائے گا جن میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔
  • یہ کمیٹی غزہ کی تعمیر نو کیلیے فریم ورک تیار کرے گا اور اس کی فنڈنگ سنبھالے گا جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحاتی پروگرام کو مکمل نہ کر لے۔
  • کسی کو بھی غزہ سے نکلنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تاہم جو چھوڑنا چاہیں وہ آزادانہ طور پر جا سکیں گے اور واپس آ سکیں گے۔
  • ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے گا جس کیلیے ترجیحی ٹیرف اور رسائی کی شرحیں شریک ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے طے کی جائیں گی۔
  • غزہ کی تعمیر نو اور توانائی بحال کرنے کیلیے ڈونلڈ ٹرمپ کا اقتصادی ترقیاتی منصوبہ بنایا جائے گا جس کیلیے مشرق وسطیٰ کے ماہرین کا ایک پینل تشکیل دیا جائے گا۔
  • حماس اور دیگر دھڑوں نے غزہ کی گورننس میں براہ راست، بالواسطہ یا کسی بھی شکل میں کوئی کردار نہ رکھنے پر اتفاق کرنا ہوگا۔ تمام فوجی ڈھانچے بشمول سرنگیں اور ہتھیاروں کی پیداوار کی تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا اور دوبارہ تعمیر نہیں کیا جائے گا۔
  • علاقائی شراکت داروں کی طرف سے ضمانت دی جائے گی کہ حماس اور دیگر دھڑے اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں گے اور نیا غزہ اپنے پڑوسیوں یا اپنے عوام کیلیے خطرہ نہیں بنے گا۔
  • امریکا عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا جو فوری طور پر غزہ میں تعینات کی جائے گی۔
  • اسرائیل غزہ پر قبضہ یا اسے ضم نہیں کرے گا۔ جیسے جیسے آئی ایس ایف کنٹرول اور استحکام قائم کرے گی اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کا انخلا ہوگا۔
+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں