پیر, اپریل 13, 2026
اشتہار

’ہمارے پاس اس ہفتے کھانا ختم ہو جائے گا‘ ایران اسرائیل جنگ کے باعث غزہ میں خوراک کی شدید قلت

اشتہار

حیرت انگیز

اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگی صورتحال کے بعد اسرائیل نے غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہیں غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہیں۔ اس ناکہ بندی نے پہلے سے ہی جنگ زدہ علاقے میں خوراک کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔

دی گارڈین  کی رپورٹ کے مطابق دو سال سے زائد کی جنگ کے بعد غزہ کی تقریباً تمام خوراک کا انحصار بیرونی امداد اور درآمدات پر ہے، عالمی امدادی تنظیم ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کے بانی ہوزے اینڈریس نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا ہے کہ اگر سرحدیں بند رہیں تو ان کے پاس موجود خوراک اسی ہفتے ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم روزانہ 10 لاکھ گرم کھانے فراہم کر رہی ہے، جس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سپلائی ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق غزہ میں تازہ خوراک کا ذخیرہ صرف ایک ہفتے، بیکریوں کے پاس آٹے کا اسٹاک 10 دن اور امدادی پیکجوں کی سپلائی محض دو ہفتوں کے لیے باقی رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر اسرائیلی حملے کی خبر پھیلتے ہی قحط کے خوف سے لوگوں نے خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کر لیا، جس سے قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔

گذشتہ ہفتے 30 شیکل میں ملنے والا 25 کلو آٹے کا تھیلا اب 80 سے 100 شیکل تک پہنچ گیا ہے، اسی طرح چینی، کوکنگ آئل اور بچوں کے ڈائپرز کی قیمتیں بھی دگنی ہو چکی ہیں۔

شمالی غزہ سے بے گھر ہونے والوں نے بتایا کہ وہ بمباری سے زیادہ فاقہ کشی سے ڈرتے ہیں۔ دوسری جانب کئی خاندانوں کے پاس ذخیرہ اندوزی کے لیے پیسے بھی نہیں ہیں۔

49 سالہ ام محمد حجازی کا کہنا ہے کہ جنگ میں گھر اور روزگار کھونے کے بعد اب ان کے پاس اتنی سکت نہیں کہ وہ مہنگی قیمت پر سامان خرید سکیں، وہ صرف امدادی تنظیموں سے ملنے والی چند دن کی خوراک پر گزارہ کر رہی ہیں۔

نارویجن ریفیوجی کونسل کے سربراہ جان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل بحیثیت قابض قوت بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں تک خوراک پہنچانے کا ذمہ دار ہے لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدیں سیکیورٹی وجوہات پر بند کی گئی تھیں، تاہم اب امداد کی بتدریج واپسی کے لیے کرم شالوم کراسنگ کھولنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ کی 80 فیصد آبادی کو خوراک کی شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے اور کسی بھی طویل ناکہ بندی کے نتیجے میں خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر قحط پیدا ہو سکتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں