The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل ایران پرعائد کردہ الزامات کے ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے، فیدریکا موگیرینی

برسلز : یورپی یونین کی وزیر برائے خارجہ امور فیدریکا موگیرینی نے ایران کے جوہری معاہدوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو ایران پر عائد کردہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے بعد برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے کی حمایت میں بیان جاری کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے گذشتہ روز جاری بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں کی تصدیق کرنا بہت ضروری ہے۔

بورس جانسن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے جوہری منصوبوں کے حوالے سے جو انکشافات کیے ہیں اس کے بعد جوہری معاہدوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کی وزیر برائے خارجہ امور فیدیریکا موگیرینی نے ایرانی جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ تہران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے، تاہم نیتن یاہو کسی بھی الزام کو ثابت کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق ان کے پاس ایران کے جوہری معاہدوں کے متعلق 55 ہزار صفحات اور 153 سی ڈیز ہر مشتمل ایسی خفیہ معلومات موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران جوہری معاہدوں کے باوجود بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث رہا ہے۔

نیتن یاہو نے گذشتہ روز ایک کانفرنس میں پریزنٹیشن دیتے ہوئے ایرانی جوہری منصوبوں سے متعلق خفیہ دستاویزات پیش کی تھی، جس میں انہوں نے کہا ایران طے شدہ معاہدے کے باوجود خفیہ طور پر ایٹمی اسلحے کی تیاری میں لگا ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیر میں اعظم کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری منصوبے کا خفیہ نام ’پروجیکٹ آماد‘ رکھا تھا، مذکورہ ایرانی پروجیکٹ کا مقصد پانچ طرح کے اہٹم بم تیار کرنا تھا اور ان بموں میں سے ہر ایک بم کی قوت 10 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہوتی۔


ایران نےخفیہ طورپرایٹمی ہتھیاربنانےکی کوشش کی تھی‘ اسرائیلی وزیراعظم


نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے اہم اجزا پرکام کیا تھا جن میں ان کا ڈیزائن اور ایٹمی تجربے کی تیاری شامل ہیں اور ایران نے ایٹمی تجربے کے لیے پانچ مختلف مقامات پرغور کیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ فائلیں امریکہ کے ساتھ شیئرکردی گئی ہیں اور انہیں ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای کے بھی حوالے کیا جائے گا۔


امریکی صدر کی جوہری پروگرام پر ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی


یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے 24 اپریل کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام پھر سے شروع کرنے پر ایران کو اتنے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جتنے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں