site
stats
عالمی خبریں

اسرائیل کا مغربی کنارے پریہودی بستی تعمیرکرنے کا اعلان

یروشلم : اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا، یہ فیصل اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کا منصب سنبھالا ہے، اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کو بھی پس پشت ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع ایوگدور لیبرمین اور وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے متنازعہ مقبوضہ مغربی کنارے پر مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ مکانات کی ضرورت کی وجہ سے کیا ہے۔

اس حوالے سے اسرائیلی میئر نے منظوری بھی دے دی ہے، یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں جبکہ اسرائیل اسے تسلیم نہیں کرتا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اعلان کردہ مکانات میں سے 100 کے قریب رام اللہ کے قریب بنائے جائیں گے اور اطلاعات ہیں کہ ان کے لیے جس تنظیم نے رقم فراہم کی ہے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کا خاندان اور اعلیٰ مشیر جیریڈ کشنر چلا رہے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی تازہ کوشش ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اسرائیل کی جانب سے یہ دوسرا اعلان ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے ان بستوں کے حامی اہلکار کو اسرائیل کے لیے اپنا سفیر بھی مقررکیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top