تل ابیب(3 اکتوبر 2025): اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے ایک بار پھر غزہ شہر کے تمام شہریوں کو علاقے سے انخلا کی وارننگ دیدی۔
سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ غزہ سٹی کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ اس شہر سے نکل کر جنوبی غزہ کی طرف چلے جائیں، اس کے بعد انہیں دہشت گرد اور دہشت گردوں کا حامی تصور کیا جائے گا، اور انہیں بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گزشتہ ماہ صیہونی فوج کے بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے قحط زدہ غزہ شہر سے اب تک تقریباً چار لاکھ فلسطینی نقل مکانی کرچکے ہیں۔
غزہ کے باسیوں نے بتایا کہ نقل مکانی کے دوران راستے میں بھی صیہونی فوج کی اندھا دھند بمباری کا سلسلہ جاری رہتا ہے، ایک متاثرہ فلسطینی حسین الدل کا کہنا تھا کہ ‘ہم گھروں سے ننگے پاؤں نکلے، اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث بچا کچا سامان بھی نہیں اٹھاسکے’۔
قطر کا فلوٹیلا ارکان کی فوری رہائی اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ
دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بم باری سے 77 فلسطینی شہید اور 222 زخمی ہو چکے ہیں، شعبہ صحت نے بیان میں کہا کہ اب بھی متعدد لاشیں ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑی ہیں، جہاں تک ایمبولینس اور شہری دفاع کی ٹیمیں تاحال نہیں پہنچ سکیں۔
شعبہ صحت نے واضح کیا کہ طبی عملے کو نقل و حرکت اور اپنے مراکز تک پہنچنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، بالخصوص اس وقت جب کہ اسپتالوں کے آس پاس بم باری یا براہِ راست دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اس صورت حال نے نہ صرف اہم طبی خدمات کو متاثر کیا ہے بلکہ مریضوں اور عملے دونوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حکام نے بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ اسپتالوں اور طبی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


