The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی پارلیمنٹ نےیہودی بستیوں کی تعمیر کامتنازع قانون منظور کرلیا

یروشلم : اسرائیلی پارلمینٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودیوں بستیوں کے تعمیر کامتنازعہ بل منظور کرلیا،بل کی منظوری کےساتھ ہی اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر بمباری کی جس سے تین فلسطینی زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کےمطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے غرب اردن میں نجی ملکیت کی حامل فلسطینی زمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے چار ہزار مکانات کی تعمیر کامتنازعہ قانون منظور کر لیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان میں اس قانون کے حق میں60جبکہ مخالفت میں 52 ووٹ ڈالے گئے۔اس قانون کی منظوری کے بعد اسرائیل کو فلسطین سمیت عالمی برادری کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی اٹارنی جنرل اویچائے مینڈلبلٹ نے اس بل کو غیرآئینی قرار دیا ہےاور ان کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اس کا دفاع نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں:اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید300گھروں کی تعمیر کا اعلان

حزب اختلاف کےرہنماؤں کاکہنا ہے کہ سلامتی کونسل یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد پاس کرچکی ہے۔اگرپارلیمنٹ کے فیصلے پرعملدرآمد ہواتو عالمی برادری اس کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں چیلنج کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل مزید یہودی بستیاں تعمیر کرے گا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستیوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔انہوں نےاپنی انتخابی مہم میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔

واضح رہے کہ 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے یہاں تعمیر ہونے والے 140 بستیوں میں پانچ لاکھ کے قریب غیر قانونی یہودی آباد ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں