اسرائیلی وزیراعظم کے لیے پھانسی کا پھندا -
The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی وزیراعظم کے لیے پھانسی کا پھندا

یروشلم: اسرائیلی پولیس نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف نفرت آمیز مواد پرمبنی پوسٹر بنانے پر آرٹ اسکول کے خلاف تحقیقاتی کارروائی شروع کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یروشلم کے بیضالیل اکیڈمی آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے طلبہ نے ایک پوسٹر ڈیزائن کیا تھا جس میں اسرائیلی وزیراعظم کے گلے پرپھانسی کا پھندا لہرا تا ہوا نظر آرہا ہے۔

یہ پوسٹر بہت حد تک امریکی صدر باراک اوباما کی معروف تصویر سے مشابہہ ہے جس پر HOPE لکھا ہوا ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم کی تصویر پر ROPE لکھا گیا ہے۔

اسرائیل کی وزیرثقافت مری ریگیو نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کے سبب آزادی اظہار رائے پر ایک نئی بحث کا دروازہ کھل گیا ہے۔

ادارے کے ترجمان مائیکل ترغمان کا کہنا ہے کہ ’’ یہ ایک طالب علم کی ذاتی رائے کا اظہار ہے اور اس کا کسی بھی صورت ادارے کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ ہمارے ادارے کی انتظامیہ یا فیکلٹی کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پولیس تحقیقات میں بھرپور تعاون کررہے ہیں‘‘۔

دوسری جانب وزیرثقافت جو کہ بائیں بازو کے نظریات کے حامل فنکاروں کے ساتھ تنازعات کے سبب مشہور ہیں ‘ انہوں نے حکومت سے آرٹ اسکول کی فنڈنگ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ 6 دسمبر کو بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا اور تل ابیب اسکوائر پر آزادی اظہار رائے کے لئے کیے جانے والے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو کا مجسمہ توڑ دیا گیاتھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں