The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل میں ہٹلر کی روح بیدار ہورہی ہے، طیب اردوگان

انقرہ : ترکی کے صدر طیب اردوگان نے صیہونی ریاست کے  بل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے صیہونی ریاست کا بل منظور کرکے اپنے ظلم و جبر کی پالیسی کو جائز قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کیے جانے پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوگان نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں یہودی ریاست کا بل منظور ہونا نسلی تعصب پر مبنی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں ایڈولف ہٹلر کی روح بیدار ہونے لگی ہے، اس لیے اسرائیل میں عربی زبان کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جو بل کی منظوری سے قبل تھا۔

ترک صدر طیب اردوگان نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب صیہونیت پر مشتمل نسل پرستانہ ریاست بن گئی ہے۔ صیہونی ریاست کا بل منظور ہونے کے خلاف عالمی برادری کو اپنا رد عمل دینا ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ترکی کے صدر نے خطاب کے دوران کہا کہ اسرائیلی حکمرانوں نے مذکورہ قانون کی منظوری سے جبر کی پالیسی کو جائز قرار دے کر اپنی حقیقی خواہشات کا اظہار کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردوگان نے اسرائیلی حکومت کے اقدامات کو آریائی نسل کے ڈکٹیٹر ہٹلر کے اقدامات کے مساوی ہیں۔

دوسری جانب اسرائلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے طیب اردوگان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طیب اردوگان کی صورت میں ترکی میں نئی سیاہ آمریت کا نفاذ عمل میں آرہا ہے، جس طرح انہوں نے ہزاروں ترک شہریوں کو جیل بھیجا اور شام میں کردوں کا قتل عام کیا، وہ سیاہ آمریت کی علامت ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں صیہونی ریاست کے لیے بل منظور ہونے کے بعد تمام اسرائیلی شہریوں کو برابر کے حقوق میسر آئیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں