اسرائیل کی جانب سے ہٹ دھرمی کا سلسلہ برقرار ہے، عالمی عدالت انصاف کے حکم کے باوجود اسرائیل نے انروا کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے امریکا کو بتا دیا ہے کہ انروا کو غزہ میں قدم رکھنے نہیں دینگے۔
گزشتہ روزعالمی عدالت انصاف کا کہنا تھا کہ اسرائیل ثابت نہیں کر سکا کہ غزہ میں یو این امدادی ایجنسی انروا کے زیادہ تر ارکان کا تعلق حماس سے ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں اقوامِ متحدہ اور انروا کی امدادی سرگرمیوں کی اجازت دینی چاہیے۔
دوسری جانب سعودی عرب، قطر اور اردن نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی پارلیمنٹ نے مغربی کنارہ اسرائیل میں غیر قانونی طور پر ضم کرنے کی منظوری دے دی ہے، سعودی عرب نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی آباد کاری اور توسیع پسندانہ عزائم کو مسترد کرتا ہے، قطر نے بھی اس اقدام کو فلسطینیوں کے حقوق سلب کونے کی کوشش قرار دیا، اور کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، اقوام متحدہ اسرائیل کو توسیع پسندانہ منصوبہ سے روکے۔
ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی پارلیمنٹ نے مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم کرنے کی منظوری دے دی
اردن نے بھی اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، خیال رہے کہ 120 رکنی پارلیمنٹ میں بل کے حق میں 25 ووٹ آئے، 24 ارکان نے مخالفت کی۔ بل مزید غور کے لیے خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
یہ ووٹنگ اس وقت ہوئی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس غزہ میں جنگ بندی معاہدہ کو ناکامی سے بچانے کے لیے اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی پش رفت غزہ معاہدے کے لیے خطرہ ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


